The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس کے اعداد و شمار: قطر کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے!

قطر : کورنا وائرس سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات نے قطر میں 2022میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کو خطرے میں ڈال دیا، رپورٹ میں کرونا سے متعلق حقائق چھپانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

سال 2022میں قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ سے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے جس کا سبب کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کے دوران بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں حقائق چھپانے کے الزام پر مبنی ایک رپورٹ بنی ہے۔

مذکورہ رپورٹ مینجمنٹ کنسلٹنسی کارنراسٹون گلوبل ایسوسی ایٹ لندن نے جاری کی ہے،10 صفحات پر مشتمل دستاویزات کے اجرا کے بعد عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کو قطر سے منتقل کرنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے

کنسلٹنسی کارنراسٹون گلوبل ایسوسی ایٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں سال اگست کے وسط تک قطر آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے زیادہ کورونا انفیکشن کی شرح کا شکار ہوا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر میں فیفا پراجیکٹس پر کام کرنے والی ایک معروف تعمیراتی کمپنی کے ذریعے کرائے گئے ایک داخلی میمو نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ قطر میں کوویڈ 19 سے مثاثر ہونے والے بہت سے مزدور مبینہ طور پر ہلاک ہوئے لیکن اس کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔

یہ خدشات انفیکشن کی تعداد اور شرح اموات کے مابین واضح تضاد کے بارے میں سوالات کے مطابق ہیں، داخلی میمو نے مبینہ طور پر کورونا سے مرنے والوں کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقے واپس بھیجنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل دنیا بھر میں صحت کے حکام کی سفارش کے خلاف ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ قطری حکام کوویڈ 19 اموات کی غلط اطلاعات دے رہے ہیں اوراس سے گلوبل ہیلتھ کیئر کیمونٹی کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

کارنر اسٹون نے کہا کہ قطر کوویڈ 19 سے صرف 201 اموات کا دعویٰ کرتا ہے، تجویز کردہ شرح اموات 0.17 فیصد ہے۔ فرم کے صحت کے بارے میں ماہرین نے کہا ہے کہ اس طرح کی شرح مجموعی طور پر انتہائی کم دکھائی دیتی ہے۔

کارنراسٹون نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور برطانیہ کینیشنل ہیلتھ سروس کو مشاورتی خدمات فراہم کی ہیں، کمپنی نے 2010 میں قطر کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی دیے جانے کے بعد سے قطر کی میزبانی والے ورلڈ کپ کے عمل کی نگرانی کی ہے۔

یہ رپورٹ آئندہ دو سالوں بعد قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے حوالے سے اس کی پریشانیوں میں اضافہ کرے گی۔ اس سے قبل بھی دوحہ کو ان الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ اس نے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے فیفا کے عہدیداروں کو رشوت دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں