عالمی مارکیٹ میں فی پیرل تیل کی قیمت ساڑھے چارفیصد گرگئی -
The news is by your side.

Advertisement

عالمی مارکیٹ میں فی پیرل تیل کی قیمت ساڑھے چارفیصد گرگئی

قطر : تیل برآمد کرنے والے ممالک کے اجلاس میں پیداور کے انجماد پراتفاق نہ ہونے پر عالمی مارکیٹ میں ہفتے کے پہلے روز فی پیرل تیل کی قیمت ساڑھے چار فیصد گر گئی ہے۔

قطر میں ہونے ہونے والااجلاس بے نتیجہ رہنے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد ہی عالمی مارکیٹ میں فی بیرل تیل پانچ فیصد تک گھٹ گیا۔

تیل کے تیرہ ممالک کے اجلاس میں توقع کی جا رہی تھی تیل کی پیداوار کو جنوری کی سطح پر منجمد کیا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہو سکے۔ تاہم تیل کی مارکیٹ میں ایران کے کردار کی وجہ سے پیداوار منجمند کرنے پر اتفاق نہ ہو سکا۔

۔سعودی عرب اپنی تیل کی پیداوار پر اس وقت تک کوئی حد مقرر نہیں کرنا چاہتا جب تک ایران بھی اس پر تیار نہ ہو.واضح رہے کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بعد زیادہ سے زیادہ تیل فروخت کرنا چاہتا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ یومیہ چالیس لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کا خواہاں ہے یہی وجہ ہے کہ دوہا میں ہونے والے اجلاس میں ایران نے شرکت نہیں کی۔

بارکلے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان جغرافیائی سیاست کی جنگ کا خاتمہ نہ ہوا تو تیل کی قیمت گرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مارچ میں اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 92 ہزار بیرل تیل کم کر کے پیداوار روزانہ 3 کروڑ 24 لاکھ بیرل تیل پیدا کیا جا رہا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے مارچ میں یومیہ 30 ہزار بیرل تیل کی پیداوار کم کر کے ایک کروڑ بیرل تیل تک لے آیا ہے تاہم اس میں اضافے کا خدشہ موجود ہے تو دوسری جانب رشیا کی تیل کی پیداوار اس ماہ میں 30 سال کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تیل کی اضافی پیداوار کی صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے جو تیل کی قیمت میں مزیدکمی کا باعث بنے گی۔

قطر کے توانائی کے وزیر محمد بن صالح ال اسد کہتے ہیں کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں اوپیک میں شامل دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے بات چیت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں