The news is by your side.

Advertisement

ہمارا دامن صاف ہے، احتساب کیلئے تیار ہیں، نوازشریف کا قومی اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اہم اجلاس سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان، شیخ رشید ، چوہدری پرویز الٰہی، سراج الحق دیگر موجود تھے۔

اسپیکر ایاز صادق نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اسمبلی سے سب سے پہلا خطاب وزیراعظم نواز شریف کریں گے جبکہ دوسرا خطاب اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور اس کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان خطاب کریں گے.

اجلاس میں معمول کے مطابق وقفہ سوالات کا سلسلہ جاری تھا کہ اس دوران وزیراعظم نواز شریف ایوان میں پہنچ گئے اس موقع پراراکین اسمبلی نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا جبکہ لیگی اراکین نے وزیر اعظم کے حق میں نعرے بازی کی۔

وزیر اعظم کا قومی اسمبلی سے خطاب 

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس میں میرے بیٹوں کا ذکرآیا ہے میرا نہیں ،مجھے خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن پھر بھی میں نے اپوزیشن کے مطالبے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے باوجود اپوزیشن نے اس کے ٹی او آرز ماننے سے انکار کردیا، میری رائے کو مثبت لینے کی بجائے اس پر تنقید کی گئی۔

حکومتی ٹی او آرز کے جواب میں اپوزیشن نے جو ٹی آر اوز پیش کئے وہ صرف ایک فرد کے گرد گھومتے ہیں، جس کا نام پانامہ لیکس میں کہیں موجود نہیں، حد تو یہ ہے کہ کمشین سے پہلے ہی مجھ پر فرد جرم تک عائد کردی گئی۔

513607-pm-1463405241-298-640x480

وزیراعظم نے اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ اپوزیشن لیڈر اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی مشاورت سے پاناما لیکس کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں جو اتفاق رائے سے ٹرم آف ریفرنس اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دے تاکہ بدعنوانی کرنے والوں کا محاسبہ کیا جاسکے۔


انہوں نے کہا کہ ہم کسی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہتے، حکومت ملک کی ترقی اور خوشحالی اور قوم کا مفاد چاہتی ہے۔

اللہ کا کرم ہے کہ ہمارا دامن صاف ہے، سیاست میں آکر بنایا کچھ نہیں البتہ گنوایا ضرور ہے، میرے پاس چھپانے کو نہ آج ہے اور نہ پہلے تھا۔

وزیر اعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت پانامہ پیپرز معاملہ کی جلد تحقیقات چاہتی ہے، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی کابینہ کے ساتھی ہر قسم کے احتساب کے لئے تیار ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ میں ایوان میں وضاحت دوں لیکن یہ معاملہ اب یوں ختم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسے ایسا ہونا چاہیے، بات نکل ہی گئی ہے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ضرور ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دل میں پارلیمنٹ کی بہت عزت ہے، یہ ایوان قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی علامت ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے ٹیکس گوشواروں کی تفصیل ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کا ٹیکس دیا، جبکہ میرے خاندان نے 23 سال میں دس ارب روپے کا ٹیکس دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کے قیام کے بارے میں محترم چیف جسٹس کا صاحب کا خط ہمیں موصول ہوگیا ہے اور ہمارے قانونی ماہرین اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے خط کی روشنی میں ہمیں اپوزیشن کے ساتھ مل کر کوئی دائرہ اختیار بنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن سب کو ایک ہی معیار میں تولنا ہوگا، اس کے الگ الگ معیار نہیں ہوسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ خدا خدا کرکے ہمارے شہروں کا امن واپس آرہا ہے، قومی سطح پر ہمارے وقار میں اضافہ ہوا اور ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ آج کا پاکستان 3 سال قبل کے پاکستان سے زیادہ روشن توانا اور مستحکم ہے، 2018 کا پاکستان اس سے بھی زیادہ مستحکم ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکس چوری اور قرضے معاف کرانے والوں کی بھی چھان بین ہونی چاہیئے، قیمتی جہازوں اور بڑے محلات میں رہنے والوں کی کہانی بھی سامنے آنی چاہیئے۔

وزیراعظم نے کہا کیچڑ اچھالنے والوں کو بتانا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب بہت سے رفاعی اداروں کو مفت زمینیں اور مالی گرانٹس اور مشینری کی درآمد میں ٹیکس کی چھوٹ دی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے خاندان کے زیر انتظام چلنے والے فلاحی اداروں کے لیے ایک انچ سرکاری زمین دی گئی نہ ہی کوئی گرانٹ دی گئی،انہوں نے سوال کیا کہ کیا کرپشن کرنے والوں کا طرزعمل ایسا ہی ہوتا ہے۔

نواز شریف نے پیسہ کہاں آیا اور کیسے باہر گیا کے جواب میں کہا کہ جدہ فیکٹری فروخت کرکے لندن کا فلیٹ خریدا، انہوں نے کہا کہ جدہ فیکٹری ہو یا لندن فلیٹ پاکستان سے ایک روپیہ بھی باہر نہیں گیا۔

سید خورشید شاہ کا انتہائی مختصر خطاب 

وزیر اعظم کے خطاب کے بعد اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے انتہائی مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے سات سوالوں کے جواب دینے کے بجائے دبئی اور جدہ کے لیکس بھی بتا دیئے اب سات نہیں 70 سوال ہوں گے ، ہم نے جو سوالات کیے تھے ان کا جواب نہیں ملا ، یہ کہہ کر وہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

بعد ازاں اسپیکر ایاز صادق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو خطاب کی دعوت دی۔

اپوزیشن نے وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کے بعد قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کر دیا، عمران خان نے بھی اسمبلی میں خطاب کے بجائے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں