The news is by your side.

Advertisement

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ایف بی آر حکام کے سامنے تیسری بار پیش

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ایف بی آر حکام کے سامنے تیسری بار پیش ہوئیں اور دوسرے شوکاز نوٹس کا جواب بھی جمع کرا دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے آج ٹیکس حکام کے سامنے تیسری بار پیش ہو کر اپنے دوسرے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا، ذرایع کا کہنا ہے کہ سرینا عیسیٰ نے لندن میں جائیداد کے ذرایع آمدن کی تفصیل سے وضاحت کر دی ہے۔

فیڈرل بیورو آف ریونیو نے سرینا عیسیٰ، ان کی بیٹی سحر عیسیٰ اور بیٹے ارسلان کو گزشتہ ماہ دوسری بار شو کاز نوٹس بھیجے تھے، جس پر سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کے کمشنر انٹرنیشنل زون کو تفصیلی جواب جمع کرایا۔

ذرایع نے بتایا کہ اِن لینڈ ریونیو کے افسر ذوالفقار احمد کو اس سلسلے میں تحقیقات کی ذمے داری سونپی گئی ہے، انھوں نے ایف بی آر کے رکن آپریشنز ڈاکٹر اشفاق سے رہنمائی کے لیے ملاقات بھی کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی ریفرنس؛ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے، شہزاد اکبر

یاد رہے کہ سرینا عیسیٰ نے پہلے شوکاز نوٹس کا جواب 9 جولائی کو جمع کرایا تھا، 21 جولائی کو انھوں نے حکام کے سامنے پیش ہو کر ٹیکس ریفرنس کی کاپی کا مطالبہ کیا، لیکن ٹیکس حکام کی جانب سے انھیں تاحال ٹیکس ریفرنس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 10 جون کو رپورٹ مکمل کرنے کے لیے ایف بی آر کو 3 ماہ کا وقت دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا جو 10 رکنی لارجر بینچ کا متفقہ فیصلہ تھا تاہم بینچ کے 7 ججز نے جسٹس قاضی کی اہلیہ کے ٹیکس معاملات ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ انکم ٹیکس کمشنر جسٹس فائز کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرے گا جس پر 60 روز میں کارروائی مکمل کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں