The news is by your side.

Advertisement

قاضی واجد: برگد کا گھنا اور خاموش درخت

”وہ اپنے انتقال سے دو روز قبل بھی شوٹنگ میں مصروف تھے!“

قاضی واجد کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے جب نیوز کاسٹر نے یہ الفاظ ادا کیے،تو میں ماضی میں چلا گیا۔

یہ حیران کن لگتا ہے کہ ایک ضعیف العمر اداکارموت سے چند روز قبل اتنا متحرک ہو، مگر قاضی واجد کے معاملے میں یہ قابل فہم ہے کہ انھوں نے عشروں قبل، جب ریڈیو کا ڈنکا بجتا تھا، اداکاری کی راہ منتخب کی تھی، اور اپنی موت تک اسی راستے پر چلنا چاہتے تھے۔

یہ بات میں اُن دوانٹرویوز کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا،جو میں نے اس لیجنڈ اداکار کے کیے، بلکہ اس کی وجہ وہ انٹرویو ہے جو منسوخ ہوگیا تھا۔

یہ کہانی دل چسپ ہے۔” خدا کی بستی“ کے راجا نے وقت تو ہمیں سہولت سے دے دیا، مگر یہ ضرور کہا کہ” آنے سے قبل فون کر لیجیے گا!“

ہر انٹرویو نگار کی طرح یہ ہدایت میرے لیے پریشان کن تھی کہ اس میں انٹرویو کی منسوخی کا امکان چھپا ہوتا ہے۔ جب آپ کو ہر ہفتے دو تین ملاقاتوں کااہتمام کرنا ہو، طویل مکالمے کرنے ہوں اور پھر انھیں خود ہی کمپوز، ایڈٹ کرکے، خود ہی پروف ریڈنگ کرکے فائنل کرنے ہوں تو آپ کسی بھی انٹرویو کی منسوخی کا صدمہ برداشت نہیں کرسکتے۔

قاضی صاحب نے آنے سے قبل فون کرنے کی ہدایت کی، اور جب میں نے فون کیا، تو بدترین خدشات نے حقیقت کا روپ اُس وقت اختیار کیا کہ جب انہوں نے متعدد فون کے بعد بھی کال نہیں اٹھائی، اس تمام صورتحال کے بعد میں نے آخر میں دفتر ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔

دو روز بعد پھرفون کیا۔ ان کی مخصوص آواز سنائی دی، جسے آپ سیکڑوں میں پہچان سکتے ہیں۔ جب ہم نے دبے دبے الفاظ میں شکوہ کیا، تو کہنے لگے،: ”بیٹا، میں تم سے معذرت چاہتا ہوں، میری انجیوپلاسٹی ہوئی تھی۔ کل ہی اسپتال سے لوٹا ہوں!“

جب ہم نے صحت کی خبر لی، تو کہنے لگے: ”اب ٹھیک ہوں، شوٹنگ پر آیا ہوں۔“

جب میں نے کہا کہ آپ کو آرام کرنا چاہیے تھا، تو فرمانے لگے، اب میں ٹھیک ہوں، تم فلاں فلاں روز آجاﺅ، مگر آنے سے پہلے فون ضرور کرنا۔

تو اب ہمیں پھر فون کرنا تھا۔

وہ گلشن اقبال میں پرانی کتابوں کے بازار کے نزدیک رہتے تھے۔( وہیں کچھ فاصلے پر اردو کا سب سے بڑے افسانہ نگار اسد محمد خاں بھی رہائش پذیر ہیں، برصغیر کے افسانہ نگاروں کا قبلہ گلشن اقبال ہے!)

ہم پرانی کتابوں کے درمیان کھڑے اُن کا نمبر ڈائل کر رہے تھے۔ تین چار کوششوں کے بعد انھوں نے فون اٹھایا۔ آواز بتا رہی تھی کہ سو کر اٹھے ہیں، جب انھوں نے کچھ تاخیر سے آنے کا کہا، تو ہم نے دست بستہ عرض کیا:”ہم تو آپ کے فلیٹ کے باہر کھڑے ہیں۔“

انھوں نے آنے کی اجازت دے دی۔

جب انھوں نے دروازہ کھولا، تو ہمارے سامنے کوئی ادکار نہ تھا، بلکہ ایک ایسا شخص تھا،جو ابھی ابھی بستر سے اٹھا ہے، جو یقینا تھوڑا ناراض ہے، جس کے کپڑوں پر شکنیں تھیں، آنکھوں میں نیند تھی۔

 شکوہ بھی کیا کہ”شاید آپ سمجھیں میں جھوٹ بول رہا ہوں!“

ہم نے فوراً معذرت کی، پیش کش بھی کی کہ اگر ممکن نہیں،تو ہم لوٹ جاتے ہیں۔

تبفوراً ہی ان کے چہرے پر وہ طلسماتی مسکراہٹ لوٹ آئی۔ مسکراہٹ، جس کا ایک عالم گرویدہ ہے۔ اور وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنسے انداز، جسے ہزاروں میں پہچانا جاسکتا ہے۔

اور تب وہ گفتگو شروع ہوئی۔

گوالیار میں پیدائش ہجرت مارٹن روڈ، کراچی میں رہائش اختیار کرنااستاد کا ریڈیو پر کام کرنے کی تحریک دینا ایک پروگرام کے عوض 5 روپے معاوضہ ملنافلم بیداری میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر جلوہ گر ہوناریڈیو سے ”قاضی کا قاعدہ “شروع کرنا، جو اگلے تیس برس جاری رہاپھر تھیڑ کی سمت آنا، تعلیم بالغان کرنا 1967ء میں ”آج کا شعر“ سے ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھنا پھر شوکت صدیقی کے لازوال ناول” خدا کی بستی “ میں جلوہ گر ہونا، جو شروع ہوتا تھا تو سڑکیں ویران ہوجاتی تھیں۔

جب میں نے پوچھا،اگر اداکاری کی سمت نہ آتے، تو کیا کررہے ہوتے؟

تو کہنے لگے: ”اگر اداکار نہ ہوتا، تو شاید کچھ بھی نہ ہوتا!“

نیوز کاسٹر کہہ رہا تھا:”قاضی واجد انتقال کرگئے انتقال سے چند روز قبل وہ شوٹنگ کر رہے تھے۔“

سوچتا ہوں، اگر اس روز بھی میں انھیں فون کرتا، انٹرویو کے لیے وقت مانگتا، تو شاید وہ یہی کہتے:”ضرور ، مگر آنے سے قبل فون کر لیجیے گا!“

اب وہ فون بند ہےقاضی واجد چلے گئےبرگد کا درخت کچھ اور گھنا ہوگیا


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں