The news is by your side.

Advertisement

ایک ہی خاندان کے سات افراد کی ہلاکت : مقدمے کا چالان عدالت میں جمع

کراچی : ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق ہونے کے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرادیا گیا، پراسیکیوٹر نے مقدمے کو قتل اور دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے قصر ناز ہوٹل میں مبینہ طور پر مضرصحت کھانا کھانے سے جاں بحق ہونے والے 5 بچوں سمیت سات افراد کی کی ہلاکت کے مقدمے سے متعلق رپورٹ سرکاری وکیل نے عدالت میں پیش کردی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اموات کی وجہ زہریلا اسپرے اور المونیم فاسفیڈ کی گولیاں بنیں، چالان میں سرکاری وکیل نے قتل اور دہشت گردی کی دفعات لگانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے جان بوجھ کر زہریلا اسپرے کروایا۔

حالانکہ ہوٹل کے خاکروب نے انتظامیہ کو آگاہ بھی کیا تھا، رپورٹ اور گواہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر نہیں ہوا، لہٰذا ملزمان کا عمل قتل اور دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

خاکروب نے انکشاف کیا ہے کہ بدقسمت خاندان کو کمرے میں لے کرگیا تو کیمیکل کی بو آرہی تھی، ہوٹل کے ریسپشن پر بیٹھے ملازم عبدالحمید کو آگاہ کیا،21فروری کو کمرے کی صفائی کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت المونیم کو خطرناک قرار دے چکی ہے، دو سال میں ہوٹل میں تین بارالمونیم فاسفیڈ کی بوتلیں منگوائی گئیں، الموینیم فاسفیڈ کی بوتل کے اندر بیس گولیاں ہوتی ہیں، قصر ناز میں المونیم فاسفیڈ کی بڑی مقدار آتی رہی جس کا ریکارڈ مرتب نہیں۔

چالان کے متن کے مطابق مقدمہ میں ذاکر حسین، سکندر حیات، پرویز بھٹی، نثار احمد گرفتار ہیں، اس کے علاوہ ندیم اختر، صنور علی، محرم علی بھی گرفتار ملزمان میں شامل ہیں، ملزم ہیرانند نے مقدمہ میں ضمانت لے رکھی ہے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہوٹل انتظامیہ کو المونیم فاسفائیڈ گولیاں خریدنے کا اختیار نہیں تھا، انتظامیہ نے کیمیکل کی خریداری کی اجازت نہیں دی تھی، انتظامیہ زہریلے اسپرے کے نتائج سے واقف تھی، انتظامیہ نے جرم چھپانے کیلئےثبوت مٹائے اور کمرے سے چادریں غائب کردیں، اس کے علاوہ انتظامیہ نے ریکارڈ میں ردوبدل کیا اور رجسٹر بھی پھاڑ دیئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں