پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

قبلائی خان: تاریخِ عالم کا ایک نام ور فاتح

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا کی تاریخ میں منگول حکم رانوں کا نام جہاں ان کی فتوحات اور اس کی بدولت عظیم الشّان سلطنت کے قیام کے لیے محفوظ ہے، وہیں انھیں سفاک اور ظالم بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ چنگیز خان کا نام تو دہشت کی علامت رہا ہی ہے، مگر اس کا پوتا قبلائی خان اپنے دادا کے نقشِ‌ قدم پر چلنے کے باوجود ایک خوش مذاق اور فن و ثقافت کو فروغ دینے والا حکم راں مشہور ہوا۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں‌ کہ قبلائی خان نے سنہ 1260 میں چین کے شاہی تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے اپنے قدم جمانے کے بعد سلطنت پر 34 سال تک حکومت کی۔ منگولوں نے چین کے ہی سونگ خاندان کے ساتھ مل کر اپنے مشترکہ دشمن جورچن کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ پھر یہی منگول اپنے حلیف اور مددگار سونگ خاندان کے بھی خلاف ہو گئے۔ چنگیز خان کی طرح اس کے پوتے قبلائی خان نے ہمیشہ اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے یلغار کا سلسلہ جاری رکھا۔ محققین کا خیال ہے کہ قبلائی خان سنہ 1215ء میں پیدا ہوا اور قیاس ہے کہ وہ 1294ء تک زندہ رہا ہے۔ محققین نے قبلائی خان کی تاریخِ وفات 18 فروری درج کی ہے۔ اگرچہ اس پر اختلاف ہے مگر زیادہ تر مؤرخین نے یہی تاریخ لکھی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ دادا کی سلطنت کو سنبھالتے ہوئے اور سونگ خاندان سے تخت چھین کر 1271 میں قبلائی خان نے یوان خاندان کی بادشاہت کا باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا۔ اس نے چین کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جن میں منگول اکثر چینیوں سے بالاتر تھے، تاہم محققین کہتے ہیں‌ کہ ہر شعبے میں نسلی بنیاد پر یہ تقسیم نہیں‌ کی گئی تھی۔ قبلائی خان نے اپنے طرزِ حکومت میں اعتدال اور اپنے قانون میں توازن کو اہمیت دی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس بہت سے مشیر چین سے تھے۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ریاست میں مذہب اور ثقافت کا امتزاج بھی دیکھا گیا اور اس دور میں سلطنت میں اسلام نے فروغ پایا اور مؤرخین لکھتے ہیں‌ کہ قبلائی خان کے دور میں بہت سے صوبوں میں مسلمان گورنر مقرر کیے گئے۔ اس دور میں منگول سلطنت نے مختلف شعبہ جات میں‌ ترقی کی اور تجارت و کاروباری سرگرمیاں‌ تیز ہوئیں۔ وینس کے مشہور سیاح مارکو پولو بھی قبلائی خان کے دربار میں‌ پہنچا تھا اور اس نے وہاں‌ بڑی عزّت اور مرتبہ پایا۔ معروف سیاح مارکو پولو قبلائی خان کے دربار میں لگ بھگ بیس سال تک رہا اور قبلائی خان کی ذاتی زندگی بارے دل چسپ باتیں تحریر کی ہیں۔ مارکو پولو نے اپنے سفرنامے میں قبلائی خان کی تعریف بھی کی ہے اور اس دور کے حالات و واقعات لکھے ہیں۔

قبلائی خان کی خواہش رہی کہ وہ اپنی سلطنت کو وسعت دے اور اس کے لیے اس نے فتوحات کی جس حکمتِ عملی کو اپنایا اس میں بڑا خسارہ بھی ہوا۔ وہ موجودہ دور کے ویتام اور میانمار تک حملے کرنے کے علاوہ جاپان پر ناکام حملہ بھی کرچکا تھا جس میں پیسہ اور انسانی جانیں ضایع ہوئیں‌ اور ماہرین کہتے ہیں کہ منگول سلطنت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔ بعد کے برسوں‌ میں وہ اپنی‌ محبوب بیوی کی رحلت کی وجہ سے پژمردہ رہنے لگا تھا۔ اس دور کے مؤرخین نے لکھا ہے کہ وہ جینے سے گویا بیزار ہوگیا اور مٹاپے نے اسے جوڑوں کے درد میں مبتلا کردیا۔ قبلائی خان نے 78 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس کے بعد یوان خاندان کی چین پر تقریباً‌ سو سال تک حکومت رہی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں