شہاب نامہ کے خالق’ قدرت اللہ شہاب‘ کو گزرے 32 برس بیت گئے -
The news is by your side.

Advertisement

شہاب نامہ کے خالق’ قدرت اللہ شہاب‘ کو گزرے 32 برس بیت گئے

اسلام آباد: پاکستان کے نامور بیورو کریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب کا آج بتیسواں یوم وفات ہے۔ قدرت اللہ شہاب 24 جولائی 1986 کو انتقال کر گئے تھے۔

قدرت اللہ شہاب 26 فروری1917 کو متحدہ ہندوستان کے علاقے گلگت میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش کیا اور 1941 میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔

ابتدا میں قدرت اللہ شہاب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سر انجام دیں۔ سنہ 1943 میں بنگال میں متعین ہوگئے۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، پھراسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔

پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سول سروس سے استعفیٰ دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے۔

اس سے قبل پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل قدرت اللہ شہاب کی کاوشوں سے ہی عمل میں آئی۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں وہ ابتلا کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انہوں نے انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔

شہاب نامہ

شہاب نامہ قدرت اللہ شہاب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ شہاب نامہ مسلمانان برصغیر کی تحریک آزادی کے پس منظر، مطالبہ پاکستان، قیام پاکستان اور تاریخ پاکستان کی چشم دید داستان ہے جو حقیقی کرداروں کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔

اسے حقیقی طور پر پاکستان کے ابتدائی دنوں کی ایک تاریخ کہا جاسکتا ہے، تاہم اس کتاب کے آخری 2 ابواب نے قدرت اللہ کی شخصیت پر بے شمار سوالات کھڑے کردیے۔

مذکورہ ابواب میں قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ انہیں زندگی کے کئی برس تک ایک خفیہ شخصیت کی جانب سے ہدایات موصول ہوتی رہیں۔ اس شخصیت کو انہوں نے ’نائنٹی‘ کے نام سے پکارا ہے۔

ان کے مطابق ایوان صدر میں اہم فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی خفیہ روحانی قوت تھی جو ان سے ملک کے مفاد میں بہتر کام کرواتی، جبکہ ایسا کام جس سے ملک کے مفاد کو خطرہ ہوتا اور مستقبل میں اس کے بدترین اثرات رونما ہوسکتے تھے، وہ رکوانے کی ہدایت دیتی۔

اس باب میں انہوں نے مختلف روحانی شخصیات سے اپنے خصوصی تعلق اور رابطوں کو بھی بیان کیا ہے۔
بقول ممتاز مفتی، ’ساری کتاب ایک ذہین، عقل مند، متوازن شخص کی روئیداد تھی، جس نے آخری باب میں ایک دم درویش بن کر، مصلہ بچھا کر تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر اللہ اللہ کرنا شروع کردیا اور خلق خدا کو اللہ اللہ کرنے کی تلقین شروع کردی‘۔

اس وقت مذکورہ ابواب کے بارے میں یہ بھی مشہور ہوگیا کہ یہ باب قدرت اللہ شہاب نے نہیں لکھا بلکہ ان کے حواریوں نے لکھ کر اس کتاب میں شامل کردیا ہے۔

بہرحال اس کے بعد ممتاز مفتی میدان میں آئے اور انہوں نے قدرت اللہ کی شخصیت کے اس پہلو کی وضاحت کرنے کے لیے الکھ نگری لکھ ڈالی۔ الکھ نگری ان کی خود نوشت سوانح حیات ’علی پور کا ایلی‘ کا دوسرا حصہ ہے تاہم یہ صرف قدرت اللہ شہاب کی شخصیت کے گرد گھومتا ہے۔

بقول خود ممتاز مفتی کے، اگر قدرت اللہ اپنی کتاب شہاب نامہ میں ’نائنٹی‘ کا باب شامل نہ کرتے تو وہ کبھی یہ کتاب نہ لکھتے۔

ممتاز مفتی کا کہنا ہے کہ شہاب نے اس کتاب میں اپنی شخصیت کا راز کھول دیا اور اس کے لیے بھی اسے یقیناً حکم دیا گیا ہوگا۔ اپنی کتاب الکھ نگری میں وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ قدرت اللہ سے ملے بھی نہیں تھے اس وقت سے وہ ان کی زندگی پر اثر انداز ہورہے تھے۔

اس کے بعد وہ قدرت اللہ کی شخصیت کے پراسرار اور روحانی پہلوؤں کو بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بہرحال، شہاب نامہ ایک تاریخی دستاویز ہونے کے ساتھ اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ کسی بھی پاکستانی بیورو کریٹ کی یاداشتوں پر مبنی یہ مشہورترین تصنیف ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986 کو اسلام آباد میں وفات پائی اوراسلام آباد کے سیکٹر ایچ 8 کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں