The news is by your side.

Advertisement

کینیڈین ریاست کوبیک میں سرکاری ملازمین کے حجاب پر پابندی

اوٹاوا : کینیڈین ریاست کیوبیک کی حکومت نے بھی سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے افراد پر مذہبی علامات سمجھی جانے والی اشیاء زیب تن کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کرلی۔

تفصیلات کے مطابق آزاد خیالات اور مذہبی شدت پسندی سے عاری سمجھے کے ملک کینیڈا کی ریاست کیوبیک کی حکومت نے بھی مذہبی منافرت پیدا کرنے کے لیے سرکاری ملازمین پر مذہبی علامات سمجھی جانے والی چیزیں پہننے پر پابندی لگانے کی تیاری کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون منظور ہونے کے بعد کیوبیک کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کولیشن آوینیر کیوبیک اور کینیڈین وزیر اعظم کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کینیڈا میں مذہبی آزادی کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور شدت پسندی کے خلاف سرگرم ہیں۔

جسٹن ٹروڈو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا اب کینیڈین حکومت جو ایک آزاد معاشرہ ہے لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر قانونی حیثیت سے نوازے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ تجویز کردہ قانون کے نفاذ کے بعد عدلیہ، پولیس افسران اور اساتذہ سمیت وہ تمام سرکاری ملازمین متاثر ہوں گے جو خود فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں : یورپی عدالت نےملازمین کےحجاب پہننے پر پابندی عائد کردی

مجوزہ قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون سے کسی بھی قسم کا حجاب کرنے والی مسلمان خواتین متاثر ہوں گی۔

خیال رہے کہ سنہ 2017 میں ریاست کیوبیک میں عوامی سروسز فراہم کرنے اور لینے والے افراد کے چہرے کو مکمل طور پر چھپانے پر پابندی عائد کی گئی تھی جسے جون 2018 میں کینیڈین عدالت نے منسوخ کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں