The news is by your side.

Advertisement

وکٹوریہ کو یورپ کی ساس اور قیصرِ ہند کیوں کہتے ہیں؟

انیسویں صدی عیسوی میں‌ سلطنتِ برطانیہ کی فرماں روا دنیا کی بااثر خاتون سمجھی جاتی تھیں جنھیں ملکہ وکٹوریہ کہا جاتا تھا۔ 1819 سے 1901 تک زندہ رہنے والی اس فرماں روا کے دور ہی میں‌ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے قدم جمائے تھے اور بعد میں وہ قیصرِ ہند کہلائیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ملکہ وکٹوریہ کو یورپ کی ساس بھی کہا جاتا ہے؟

ان کی بادشاہی تقریباً 64 سال رہی اور سلطنتِ برطانیہ کی طاقت بڑھتی رہی اور ملکہ وکٹوریہ کا عالمی سطح پر زبردست اثر رسوخ رہا۔ ملکہ بننے کے بعد 1839 میں انھوں نے اپنے عم زاد شہزادہ البرٹ سے شادی کی اور ان کی رفاقت 21 سال قائم رہی۔

ملکہ وکٹوریہ نو بچوں کی ماں بنیں جن کی شادیاں یورپ کے مختلف شاہی خاندانوں میں کی گئیں اور اس طرح ملکہ وکٹوریہ کو “یورپ کی ساس” کہا جانے لگا۔

ملکہ وکٹوریہ کو ہندوستان سے بھی خاص انسیت تھی۔ ملکہ کی خواہش پر انھیں دو ہندوستانی خدمت گار دیے گئے جنھوں‌ نے انھیں ہندوستانی پکوان، زبان اور رسم و رواج سے بھی واقف کرایا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں