The news is by your side.

Advertisement

طیارہ چیکنگ کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے

لاہور: پی آئی اے طیارہ حادثے نے جہاز چیکنگ کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔

تفصیلات کے مطابق ’ایئروردنیس‘ ہر طیارے کی پرواز سے قبل اس کے فٹ ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔ ایئروردنیس ڈیپارٹمنٹ نے طیارے کو چیک کیا یا نہیں؟ یہ معمہ بن گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئروردنیس ڈیپارٹمنٹ میں لاک ڈاؤن کے باعث معمول سے کم افراد تھے، طیارہ کو روانگی سے آدھا گھنٹہ قبل روکا گیا، مکمل چیک کرنے کے باوجود دونوں انجنز بند ہونا حیران کن ہے۔

ذرائع کے مطابق ایئروردنیس ڈیپارٹمنٹ نے طیارے کو پرواز سے قبل3بارروک کرچیک کیا، پی آئی اے کے فلیٹ میں متعدد طیارے اپنی عمر پوری کرچکے ہیں، حادثے کے شکار ایئربس320 میں پہلے سے ہی فنی خرابی تھی۔

پی آئی اے کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ، وزیراعظم کا فوری تحقیقات کا حکم

’انجینئرڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعدد بار انتظامیہ کو خطوط لکھے گئے، انجینئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعدد بار پرزے منگوانے کی درخواستیں دی گئی تھیں، لاہور سے ٹیک آف سے پہلے بھی اسی طیارے کے انجن میں خرابی پیدا ہوئی تھی، کراچی پہنچ تک طیارے کا لینڈنگ گیئرنہ کھلنے کی تحقیقات ہورہی ہیں‘۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی طیارے کا لینڈنگ گیئر نہ کھلے تو اس کا انجن خرابی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، طیارے کا لینڈنگ گیئرنہ کھلنا اور دونوں انجن خراب ہونا سوالیہ نشان ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں