The news is by your side.

Advertisement

سانحہ مچھ، حکومت اور شہدا کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات

کوئٹہ: ہزارہ برادری اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، دونوں فریقین کے درمیان تحریری معاہدہ ہوا۔

اے آر وائی نیوز نے حکومت اور شہداکمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدےکی کاپی حاصل کرلی،  معاہدے میں دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سانحہ مچھ کی تحقیقات کے لیے وزیرداخلہ بلوچستان کی سربراہی میں خصوصی کمیشن بنایا جائے گا، جس میں اسمبلی کے دو ممبران اور ڈی آئی جی رینک کا افسر اور شہدا کے لواحقین کے دو افراد شامل ہوں گے۔

معاہدے کے تحت  جے آئی ٹی نےذمہ دار افسران کو ملوث پایا تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے  شہدا کے لواحقین کو فی کس 15 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا جائے گا۔

حکومت اورلواحقین کے درمیان خصوصی کمیشن کے ٹی او آرز بھی طےکرلیے، جن کے مطابق خصوصی کمیشن سانحہ مچھ کی تحقیقات کی نگرانی کرےگا، کمیشن22 سال میں ہزارہ برادری پرحملوں کی تحقیقات کرےگا، خصوصی کمیشن ہزارہ کمیونٹی کےلاپتہ افرادکی تحقیقات بھی کرےگا۔

ٹی او آرز کے مطابق بلوچستان حکومت اور حساس ادارے سیکیورٹی کی صورت حال کا ازسرنو جائزہ لیں گے اور نیا سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے گا،  ڈی جی نادرا و پاسپورٹ ہزارہ برادری کےآئی ڈی پاسپورٹ کے مسائل حل کریں گے جبکہ شہدا کے لواحقین کو حکومت بلوچستان روزگار کےمواقع فراہم کرےگی۔

مزید پڑھیں: دھرنا، مذاکرات کامیاب، ورثا نے شہدا کے تدفین کی اجازت دے دی

قبل ازیں دھرنا منتظمین نے مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرلیے ہیں۔ دھرنا منتظمین نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزرا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا  کہ لواحقین شہدا کی تدفین پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ ’جس بھی کمیونٹی کیساتھ ظلم ہورہاہےاس کااختتام ہوناچاہیے، لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے اب ایسےمعاملات کو رکناچاہیے، ملک میں گورننس درست ہوتی تو اس ملک میں غربت نہ ہوتی، پاکستان نےہمیں سب کچھ دیا بس اچھی گورننس نہیں ملی،بہت ساری قوتیں پاکستان کوآگےبڑھنےسے روکتی ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں  صحیح گورننس  ہوتی تو ایسےدھرنے نہیں ہوتے، بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے، پاکستان کےمعاشی مسائل کو بلوچستان ہی ختم کرسکتا ہے، ناامید نہ ہوں، مسائل ضرور ہیں‌ مگر ہم اکٹھے ہوکر کام کریں گے تو اس کا مقابلہ کریں گے، سابقہ حکومتوں نے آپ لوگوں سے صرف وعدے کیے اور چلے گئے،کبھی کسی حکومت نےآپ لوگوں سےتحریری معاہدہ نہیں کیا جبکہ ہم نے تحریری معاہدہ کیا،  ان معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا کیونکہ دستخط ہوچکے ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کی آج ایک بات کی جس پر اپوزیشن  نےتنقید شروع کردی، وزیراعظم کا کہنے کا مقصدیہ نہیں تھا جس طرح  اُسے پیش کیا گیا، لواحقین کاجے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا ہے، ایسےواقعات کی روک تھام کیلئے نگرانی ضروری ہے‘۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم4،5ماہ سےکہہ رہےہیں بیرونی عناصرفسادچاہتے ہیں،ہم سب نےمل کربیرونی عناصرکی سازشیں ناکام بنانی ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں