site
stats
پاکستان

کوئٹہ: سریاب روڈ پر دھماکہ، 4 افراد جاں بحق

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر خودکش دھماکہ ہوا ہے جس میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے سریاب روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی طور پر گفتگو کرتے ہوئے دھماکے کی تصدیق کی اور بتایا کہ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر روانہ کردی گئی ہیں۔

بعد ازاں ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے تصدیق کی کہ سریاب روڈ پر ہونے والا دھماکہ خودکش تھا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ وہاں سے گزرنے والے رکشے، موٹر سائیکلیں اور ان پر سوار مسافر بھی دھماکے کی زد میں آئے۔

دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق خودکش حملہ آور کے اعضا مل گئے ہیں۔ ’دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے‘۔

ان کے مطابق سیکیورٹی سے متعلق کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔


جنگ کی صورتحال میں ہیں

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرانزک کے لیے ٹیم لاہور سے بلالی ہے، شدید زخمیوں کو کراچی کے بڑےاسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی صورتحال میں ہیں اور ہم ہی کامیاب ہوں گے، ’دہشت گرد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور بیرونی عناصر کی مدد سے ہمیں غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘۔

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے معاونین کا ہر صورت خاتمہ کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ایڈیشنل آئی جی اشرف نور اور ان کے محافظ شہید جبکہ 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ بھی ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے جہاں اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا درجہ پا چکے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top