سال 2017: کوئٹہ میں دہشت گردی کے 6 بڑے واقعات، 45 افراد شہید quetta bleeds
The news is by your side.

Advertisement

سال 2017: کوئٹہ میں دہشت گردی کے 6 بڑے واقعات، 45 افراد شہید

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں دہشت گردوں نے صوبے کا امن خراب کرنے کے لیے رواں برس 6 بڑے حملے کیے جس کے نتیجے میں ایس پی سمیت 45 شہری شہید ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کا امن بربادکرنے کےلئے دہشت گردوں نے رواں سال بھی 6 حملے کئے، صوبائی دارالحکومت کے امن پر وار کرتے ہوئے دہشت گرد حملوں میں رواں سال ایس پی سمیت کئی شہری خودکش حملوں اورفائرنگ سے زندگی کھوبیٹھے۔

کوئٹہ میں دہشت گردی  کا پہلا واقعہ 23 جون کو شہدا چوک پر پیش آیا، آئی جی پولیس کے دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے میں 13 افراد شہید جبکہ 21 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

دوسرا واقعہ 13 جولائی کو کلی دیبا کے علاقے میں پیش آیا  جہاں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس موبائل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایس پی قائد آباد مبارک سمیت چار اہلکار شہید ہوئے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ، دہشت گردوں کا مزدوروں پر حملہ، تین جاں بحق

تیسرا واقعہ 12 اگست کی رات کوئٹہ کے علاقے پیش میں پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز کے ٹرک کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، دہشت گردی کے نتیجے میں 8 جوانوں سمیت 15 شہری شہید ہوئے تھے۔

چوتھا واقعہ تیرہ اکتوبرفقیر محمد روڈ پر پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے گشت کرنے والی پولیس موبائل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 1 اہلکار شہید ہوا تھا۔

پانچواں واقعہ اٹھارہ اکتوبرکی صبح پیش آیا جب خودکش حملہ آور بارود سے بھری گاڑی کو پولیس ٹرک سے ٹکرائی، اس دہشت گردی کے نتیجے میں 7 اہلکاروں سمیت آٹھ افراد شہید ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سریاب روڈ پر دھماکہ، 4 افراد جاں بحق

چھٹا واقعہ  پندرہ نومبر کی دوپہر کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں پیش آیا جہاں فائرنگ سے ایس پی سٹی انویسٹی گیشن محمد الیاس، ان کی اہلیہ، بیٹا اور پوتا شہید ہو گئے تھے۔

علاوہ ازیں 25 نومبر کو کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ 9 نومبر کو کوئٹہ میں فائرنگ سے ڈی آئی جی بلوچستان سمیت تین پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

ساتواں حملہ آج صبح زرغون روڈ پر پیش آیا جہاں 1 دہشت گرد نے گرجا گھر میں داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں