کوئٹہ (23 دسمبر 2025): اس وقت ملک بھر میں سردی اپنے پنجے جما رہی ہے لیکن کوئٹہ میں برفیلی سردی نے لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
پاکستان کے چند جنوبی علاقوں کے علاوہ ملک بھر میں سردی جاری ہے۔ تاہم کوئٹہ میں شدید سردی نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
کوئٹہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر کر منفی 3 تک جا پہنچا ہے جب کہ گیس کے پریشر میں کمی کا مسئلہ سنگین ہونے کی وجہ سے نظام زندگی اور اہم امور مفلوج ہونے لگے ہیں۔
بلوچستان میں آنکھوں کے سب سے بڑے ہیلپرآئی اسپتال میں سوئی گیس ناپید ہونے کی وجہ سے اسپتال کے وارڈز اور آپریشن تھیٹر سمیت دیگر شعبوں میں ہیٹر بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث وارڈز اور انتظارگاہیں برفیلی ہواؤں کے زیر اثر ہیں اور مریض وتیمارداروں کے ساتھ طبی عملہ بھی پریشان ہے۔
اسپتالوں میں سرجری آلات صاف کرنے والی مشین چلانے کیلیے بھی سوئی گیس نہیں جس کے سرجریوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ایم ایس اسپتال کا کہنا ہے کہ سریاب کے پورے علاقے میں گیس پریشر نہیں ہے۔ انتظامیہ کو مسئلے سے آگاہ کر چکے، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ حکومت فوری نوٹس لے۔
ایم ایس ڈاکٹر اسحاق پانیزئی کا کہنا تھا کہ بجلی کے ہیٹرز کو مجبوری میں استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن بجلی زیادہ خرچ ہو رہی ہے اور بجلی کے واجبات 70 لاکھ روپے تک جا پہنچے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کڑاکے دار سردی سے مریضوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کو نمونیا اور دیگر بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
منظور احمد اے آر وائی نیوز بلوچستان سے وابستہ سینیئر رپورٹر ہیں


