The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ: اپوزیشن نے حکومتی پیش کش پر سینیٹ کی 6 نشستوں کا مطالبہ رکھ دیا

کوئٹہ: بلوچستان میں اپوزیشن نے حکومتی پیش کش پر سینیٹ کی 6 نشستوں کا مطالبہ رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج بلوچستان میں بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محمود خان اچکزئی اور عبدالغفور حیدری و دیگر شریک ہوئے، اجلاس میں حکمران جماعت کی جانب سے پیش کش پر غور کیا گیا۔

اجلاس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ بی اے پی کی طرف سے اپوزیشن کو پنجاب فارمولے کی پیش کش ہوئی ہے، حکمران جماعت نے اپوزیشن کو 12 میں سے 4 نشستوں کی پیش کش کی تھی۔

تاہم اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے سامنے سینیٹ کی 6 نشستوں کا مطالبہ رکھ دیا ہے، مولانا غفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج چیئرمین سینیٹ کا فون آیا تھا کہ تشریف لانا چاہتا ہوں، صادق سنجرانی نے کہا پنجاب کی طرح یہاں بھی بلا مقابلہ انتخاب ہو۔

انھوں نے کہا ’میں نے کہا اچھی خواہش ہے خیر مقدم کرتے ہیں، ہم نے کہا کہ سینیٹ کی کم از کم 5 سے 6 سیٹیں ہمیں ملنی چاہیئں۔‘

نیوز کانفرنس میں اختر مینگل نے کہا ہمارا جو بھی امیدوار ہوگا وہ مشترکہ پی ڈی ایم کا امیدوار ہوگا، پی ڈی ایم مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، دوسر طرف خلائی مخلوق کے ساتھ پیرا شوٹر بھی آ رہے ہیں، پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن پر مشترکہ امیدواروں کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

سینیٹ انتخاب؛ ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی پیشکش کا جواب دیدیا

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ سینیٹ امیدواروں کا تعلق مشترکہ طور پر پی ڈی ایم سے ہوگا، پی ڈی ایم طے کر چکی ہے کہ سینیٹ ہو یا ضمنی الیکشن مشترکہ لڑیں گے۔ مولانا غفور حیدری نے مارچ کے حوالے سے کہا کہ 26 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، ہم اسی طرح اتحاد و یقین کے ساتھ آگے بڑھیں گے، ہماری تحریک کا مقصدموجودہ حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔

بعد ازاں، سردار اختر مینگل اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں سینیٹ انتخابات کے لیے پنجاب فارمولے پر بات چیت ہوئی، اختر مینگل نے کہا کہ ملاقات میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ہم نے بھی اپنا فارمولہ دے دیا ہے، بال اب حکومتی اتحاد کے کوٹ میں ہے، اگر حکومت نہیں مانتی تو ہم مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر سندھ میں ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی کی پیش کش مسترد کر دی ہے، ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخاب پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کے ساتھ ہی لڑیں گے، خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی ایم کیو ایم پاکستان کو سپورٹ کرے گی، جب کہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ایم کیو ایم، پی ٹی آئی کو سپورٹ کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں