جمعہ, فروری 13, 2026
اشتہار

محمد قلی قطب شاہ: اردو کا پہلا شاعر اور بھاگ متی

اشتہار

حیرت انگیز

محمد قلی قطب شاہ کو اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر کہا جاتا ہے، لیکن اس کی ایک وجہِ شہرت یہی نہیں بلکہ وہ جنوبی ہند کے گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کا پانچواں حکم راں بھی تھا جس نے دکن شہر بسایا تھا۔

بادشاہ کو فنِ تعمیر سے خاص لگاؤ تھا۔ ہندوستان کا مشہور شہر حیدرآباد (دکن) اور وہاں کے چار مینار قلی قطب شاہ کی یادگار ہیں اور دنیا بھر میں دکن کی پہچان بھی۔ محمد قلی قطب شاہ 11 جنوری 1611ء کو انتقال کر گیا تھا۔ چار مینار کے علاوہ دکن کی مشہور مکہ مسجد اور کئی دوسری عمارتیں بھی اسی حکم راں کی یاد دلاتی ہیں۔ اسے مؤرخین نے فیاض اور رحم دل بھی لکھا ہے، جس نے ریاعا کو انعامات، دعوتوں وغیرہ کے سلسلے میں دو کروڑ چو بیس لاکھ روپے خرچ کیے اور اتنی ہی رقم خیرات اور صدقے کے طور پر غریبوں اور مسکینوں میں بانٹی۔ گیارہ کروڑ روپے کا حساب تو تاریخوں میں صاف طور پر درج ہے۔ اس رقم کے علاوہ محمد قلی نے دوسرے مواقع پر جو انعامات عطا کیے یا خیرات دی، اُس کا کوئی اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فن و ادب کا دلدادہ بھی تھا جس نے فارسی اور اردو زبان کے علاوہ تلگو میں بھی شاعری کی۔ یہ اردو جو قلی قطب شاہ نے لکھی ہے تقریباً چار سو سال پرانی ہے۔ پھر اس کا املا بھی قدیم ہے اور بسا اوقات کسی لفظ کے مقامی دکنی تلفظ کو ظاہر کرتا ہے۔ مسعود حسین خان اپنی کتاب ’’قلی قطب شاہ‘‘میں لکھتے ہیں کہ قلی قطب شاہ کے دور تک اردو دکن میں تین سو ساڑھے تین سو برس میں ایک متعین شکل اختیار کرچکی تھی اور اس کا رشتہ شمالی ہند سے ٹوٹ چکا تھا ، مراٹھی وہ واحد آریائی زبان تھی جو دکن کی مقامی اردو سے لین دین کرسکتی تھی۔ چنانچہ دکنی اردو میں جو صوتیاتی اور قواعدی خصوصیات پیدا ہوئی تھیں وہ اسے شمالی ہند کی اردو سے ممتاز کرتی ہیں اور وہ سب خصوصیات قلی قطب شاہ کے ہاں موجود ہیں۔ انہی خصوصیات کی بنا پر مسعود صاحب نے لکھا ہے کہ قلی قطب شاہ کے کلام کے بعض حصوں ’’کی صحیح قرأت دکھنی اردو کے ماہرین کے لیے ابھی تک درد سر بنی ہوئی ہے۔

محققین اور تذکرہ نگاروں نے قلی قطب شاہ کو اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر بھی لکھا ہے۔ قطب شاہ کا دیوان اس کی وفات کے بعد ایک جانشین سلطان محمد قطب شاہ نے مرتب کیا تھا جسے 1941ء میں ڈاکٹر محی الدین زور جیسے بلند پایہ ادیب، محقق اور مترجم نے جدید ترتیب کے ساتھ شایع کروایا۔

قلی قطب شاہ کا سنہ پیدائش 1565ء ہے۔ ملّا وجہی نے اپنے تذکرے میں افسانوی انداز اپناتے ہوئے لکھا ہے کہ جیسا کہ شاہی گھرانوں میں پیدائش کی خوشیاں منائی جاتی ہیں اسی طرح اس بلند اقبال شہزادے کی پیدائش پر خوب جشن ہوا، ابراہیم قلی نے اپنے بیٹے کی پیدائش پر اتنی خیرات کی کہ سونے کا ایک نیا آسمان بنا ڈالا اور خود آسمان کو بھی خیرات میں اتنا زیادہ سونا دیا گیا کہ وہ اس کو رکھنے کے لیے جگہ ڈھونڈنے کے لئے رات دن چکر لگا رہا ہے اور زمین کو بادشا نے اتنی دولت بخش دی کہ وہ اُس کے لئے آسمان سے جگہ مانگ رہی ہے اور اس قدر سونا رعایا میں بانٹا گیا کہ وہ اب مٹی سے بھی سستا ہو گیا اور اپنی بے عزّتی اور کم قیمتی کے غم میں پیلا پڑ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد قلی کے جنم دن پر بہت زیادہ خیرات کی گئی اور جی بھر کر خوشیاں منائی گئی تھیں۔

قلی قطب شاہ نے پچاس ہزار سے زائد شعر کہے ہیں۔ سادگی اور شیرینی کو ناقدین نے اس کے کلام کا جوہر کہا ہے۔ قلی قطب شاہ کے کلام میں صوفیانہ رنگ اور اس کا عاشقانہ انداز بھی نمایاں ہے۔ ناقدین نے یہ بھی کہا ہے کہ شاعری میں مرقع نگاری اور مناظرِ فطرت کو اجاگر کرنے کا سلسلہ اسی شاعر نے شروع کیا تھا جسے بعد میں آنے والے شعرا نے بھی اپنایا۔ محمد قلی قطب شاہ نے اپنے دور میں مروج ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی، لیکن اس کی غزلیں خاص طور سے قابلِ توجہ ہیں۔

اسی قلی قطب شاہ کے عشق کی کہانی بھی مشہور ہے۔ یہ لوک گیتوں اور کہانیوں کا حصّہ ہے۔ تاہم اس واقعے پر مؤرخین میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ اکثر بادشاہوں اور دوسری شخصیات سے کئی قصّے منسوب ہیں جن کی صداقت مشکوک ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ ان میں رنگ آمیزی کی گئی اور قصّے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں محمد قلی قطب شاہ ایک لڑکی پر فریفتہ ہو گیا۔ وہ چھپ چھپ کر اس سے ملاقاتیں کرنے لگا تھا۔ بادشاہ نے شہزادے کو اس سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی، مگر وہ نہ رکا۔ مشہور ہے کہ ایک بار محبوبہ سے ملاقات کے لیے شہزادے نے بپھرے ہوئے دریا میں گھوڑا ڈال دیا تھا۔ بادشاہ کو اس کی خبر ہوئی تو پدرانہ شفقت اور محبت نے جوش مارا اور حکم دیا کہ دریائے موسیٰ پر پُل تعمیر کردیا جائے۔ غالباً یہی وہ واحد راستہ تھا جس سے گزر کر شہزادہ اپنی محبوبہ سے ملنے جاتا تھا۔

بالآخر وہ وقت آیا جب محمد قلی قطب شاہ سلطان بنا اور اس لڑکی سے شادی کرلی۔ اس کا نام ‘بھاگ متی’ تھا، جسے سلطان نے ‘قطبِ مشتری’ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ ادبی مؤرخین کا خیال ہے کہ قلی قطب شاہ جس لڑکی (بھاگ متی) کی محبّت میں‌ گرفتار ہوا تھا، وہ رقص و موسیقی میں کمال رکھتی تھی۔ اسی کے نام پر بادشاہ نے شہر ‘بھاگ نگر’ بسایا تھا جسے بعد میں حیدر آباد کا نام دے دیا گیا۔ اسی طرح بھاگ متی کو حیدر محل کہا جانے لگا تھا۔

سلطان محمد قلی قطب شاہ کی محبّت کی داستان کو بعض مؤرخین نے من گھڑت داستان اور افسانہ لکھا ہے۔ اسی طرح لڑکی کے قبولِ اسلام اور سلطان سے نکاح کے بعد ملکہ بن جانے پر بھی بحث کی جاتی ہے۔ شہر حیدرآباد کی وجہِ تسمیہ وہ خطاب بتایا جاتا ہے جو قطبِ‌ مشتری سے ‘حیدر محل’ ہوگیا تھا، تاہم اس پر اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن سلطان اور محبوبہ سے محرم بننے تک بھاگ متی داستانوی ادب میں آج بھی زندہ ہیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں