پیر, مئی 18, 2026
اشتہار

‘بھول جانے یا یاد رکھنے کی کوئی مقررہ میعاد نہیں!’

اشتہار

حیرت انگیز

یاد ایک ایسا پرسکون اور طوفانی، شفاف اور گدلا سمندر ہے جس کی تہ میں ان گنت شکستہ جہازوں، جگمگاتے خزانوں اور لاشوں کے شہر خموشاں دفن ہیں۔

ان زیر آب بلوریں محلات میں سمندری پھول تیرتے پھرتے ہیں۔ سبز اور نیلی موجوں کے عکس ان ایوانوں میں لہریں مارتے ہیں اور زمرد کی روشنی میں مونگے کی چٹانوں کے پیچھے چھپی جل پریوں کی آوازیں اس سیال، ابدی سناٹے میں مدھم مدھم گونجتی ہیں۔ (یہ آوازیں اگر آپ ساحل پر کوئی سیپی اٹھا کر کان سے لگائیے توآپ کو سنائی دیں گی۔) منور، نازک سنہری مچھلیاں اور ہیبت ناک شارک چکر کاٹتے ہیں اور وقت کے نئے طوفانوں میں نئے طوفان ڈوب کر اسی تہ میں جا بیٹھتے ہیں۔ مزید لاشوں اور مزید خزانوں کے انبار کا اس زیر آب شہر خموشاں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ تہ میں پڑی پرانی لاشیں اور گہرائی میں ڈوبتی چلی جاتی ہیں، ان کی شکلیں مدھم ہوجاتی ہیں، جواہرات ماند پڑ جاتے ہیں اور شکستہ جہاز کِھیل کِھیل ہو کر پانی میں گھل جاتے ہیں۔ اسے ’’بھول جانا‘‘ کہا جاتا ہے۔

ایسا صدیاں گزرنے پر بھی ہوتا ہے اور ایک ایک برس یا ایک مہینہ گزرنے پر بھی۔ بھول جانے یا یاد رکھنے کی کوئی مقررہ میعاد نہیں۔ انسان ہزاروں اور صدیوں کے پیمانے سے اپنے اجتماعی ماضی کو ماپتا ہے۔ اس کی اپنی عمر اس قدر مختصر ہے کہ وہ اپنے تصورِ زماں کو اپنے محدود پیمانۂ وقت سے ہی ماپ پاتا ہے، اور اسی کو بے چارہ بہت اہم سمجھتا ہے۔ وقت کے محدود تجربے کو، جو اس کی تیز رفتار زندگی سے مترادف ہے، وہ تاریخ کی مجموعیت کے پس منظرمیں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور سمندر سنسناتا رہتا ہے۔ اس سے مفر نہیں تاوقتیکہ آپ خود، دوسروں کے لیے ایک یاد بن کر اس تہ سے جا لگیں۔

(ممتاز فکشن رائٹر قرۃالعین حیدر کی رپورتاژ ‘چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا’ سے ایک پارہ)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں