The news is by your side.

Advertisement

راگ لطیفی ۔ محبت کا فیض آج بھی جاری ہے

شام کا وقت تھا، بھٹ شاہ میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کی درگاہ زائرین سے بھری ہوئی تھی۔ لوگ اپنی اپنی منتیں اور دعائیں لیے درگاہ کے مختلف حصوں میں اپنے اپنے عقائد کے مطابق محو عبادت تھے۔ کوئی سائیں لطیف کی ضریح کی جالیوں سے سر ٹکائے اپنی ناتمام حسرتوں کے پورا ہونے کی دعائیں مانگ رہا تھا۔ کوئی حجرے کے باہر سر جھکائے، ہاتھ پھیلائے کسی معجزے کے انتظار میں تھا۔ ایسے میں شاہ لطیف کے طنبورے کی تان اور شاہ کا سر ہوا کی دوش پر لہرا رہا تھا۔ کوئی عورت ان عورتوں کی انتظار اور حسرت اپنے گیت میں بیان کر رہی تھی جن کے ملاح شوہر انہیں چھوڑ کر لمبے سفر پر جاچکے تھے، اور اب ان عورتوں کے پاس صرف واپسی کا انتظار تھا اور جدائی کا دکھ جو انہیں ادھ موا کیے ہوئے تھا۔

یہ آواز شاہ لطیف کی درگاہ کے سامنے نو تعمیر شدہ ریزورٹ سے ابھر رہی تھی جہاں ایک طویل عرصے بعد چند خواتین شاہ کا کلام گا کر اور ان کا ایجاد کردہ طنبورہ بجا کر حاضرین کو انگشت بدنداں کیے ہوئے تھیں۔

سُر کا مطلب ہے ’میٹھی شے‘۔ سُروں کے مجموعے کو راگ کہتے ہیں جس میں سُر بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ شاہ لطیف اپنے راگوں میں محبت کی لازوال داستانوں کے کردار سوہنی، سسی، مومل، رانو، سورٹھ، نوری، لیلیٰ اور مارئی (ماروی) کو ’سورمی‘ قرار دیتے ہیں جس نے اپنی جرات اور ہمت کی بے مثال داستان رقم کی ہو۔

شاہ کا کلام گانے والی ان 4 نو عمر خواتین میں سے 3 تو صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایک تائیوان سے آئی تھی جس کا نام پی لنگ ہنگ تھا۔

لوک روایات کے مطابق راگ لطیفی گانے والی پہلی عورت مائی جیواں تھی۔ مائی جیواں اب سے ڈیڑھ سو سال قبل گجرات کے علاقے بھوج کے ایک راگی نہال فقیر کی بیوی ہوا کرتی تھی۔ نہال فقیر خود بھی شاہ لطیف کے درگاہ کا راگی تھا اور لطیفی راگ گایا کرتا تھا۔

مائی جیواں بیٹے کی پیدائش کی منت لے کر شاہ لطیف کی درگاہ پر آئی اور اس نے منت مانگی کہ بیٹا ہونے کے بعد وہ 7 جمعوں تک درگاہ پر آ کر راگ گایا کرے گی۔ خدا نے اسے بیٹے سے نوازا جس کے بعد وہ راگ لطیفی سیکھ کر اپنی منت کے مطابق 7 جمعوں تک درگاہ پر راگ گاتی رہی

اس کے ڈیڑھ سو سال بعد شاہ کا کلام ایک بار پھر خواتین کی آواز میں فضا میں گونج رہا تھا۔


تائیوان سے بھٹ شاہ تک

شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری نے صرف مقامی افراد کو ہی نہیں، بلکہ مذہب، علاقے اور خطے سے قطع نظر ہر شخص کو متاثر کیا تھا جس کا ثبوت تائیوان سے آنے والی طالب علم پی لنگ ہانگ تھیں جو لطیفی راگ پر تھیسس لکھ رہی ہیں۔

پی لنگ ہانگ تائیوان نیشنل یونیورسٹی سے ثقافتی موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ سنہ 2012 میں انہوں نے لاہور میں ہونے والے صوفی فیسٹیول میں شرکت کی۔ یہیں ان کا پہلا تعارف لطیفی راگ سے ہوا۔ بعد ازاں 2014 میں انہوں نے بھٹ شاہ کا دورہ کیا اور درگاہ پر پہلی بار شاہ کا راگ سنا۔ اس کے بعد اپنے ریسرچ پروجیکٹ کے دوران بھی لطیفی راگ بار بار ان کی نظر سے گزرا۔

وہ بتاتی ہیں، ’جتنا زیادہ میں شاہ لطیف کی شاعری پڑھتی گئی، اتنی ہی زیادہ اس کی خوبصورتی اور معنویت مجھ پر وا ہوتی گئی‘۔ بالآخر انہوں نے اپنی تحقیق کا موضوع راگ لطیفی چنا جس کے لیے وہ پاکستان آگئیں۔ یہاں وہ راگ لطیفی سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک دستاویزی صورت میں محفوظ کر رہی ہیں جس میں درگاہ کے فقیروں اور دیگر متعلقہ افراد کے انٹرویو شامل ہیں۔

ہانگ بتاتی ہیں کہ وہ سیاحت کی بے حد شوقین ہیں اور کئی ممالک کی سیاحت کرچکی ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اپنے پروجیکٹ کے لیے وہ کافی عرصے سے صوبہ سندھ میں مقیم ہیں جو ان کے لیے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوشگوار تجربہ بھی ہے۔

ہانگ کو سندھ کے لوگوں کی مہمان نوازی نے بے حد متاثر کیا۔ انہیں یہاں کا خاندانی نظام بھی بہت بھایا جس میں لوگ دن کا کچھ حصہ اہل خانہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ضرور گزارتے ہیں۔


شاہ کی سورمیوں سے متاثر باپ

راگ لطیفی گانے والی ان لڑکیوں کے استاد منٹھار فقیر ہیں جو شاہ لطیف کی درگاہ کے راگی ہیں۔ شاہ کا کلام سیکھنے والی غلام سکینہ اور صابرہ انہی کی بیٹیاں ہیں۔

منٹھار فقیر کی بیٹیوں کا راگ سیکھنا نہ صرف ان نوعمر لڑکیوں کا شوق تھا بلکہ یہ خود منٹھار فقیر کا بھی خواب تھا جس کی تکمیل انہوں نے اپنی بیٹیوں کو یہ خوبصورت راگ سکھا کر کی۔ وہ اپنی برادری میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کے شوق کو اس قدر اہمیت دی اور اس کی تکمیل میں ان کا ساتھ دیا۔

شاہ لطیف کی شاعری میں 7 عورتوں کا ذکر ملتا ہے جنہیں شاہ لطیف ’سورمیاں‘ کہتے ہیں۔ سورما یا سورمی ایسی شخصیت ہے جو غیر معمولی ہو اور ایسے کارنامے انجام دے جو کوئی عام انسان نہیں دے سکتا۔ یہ سورمیاں محبت کی لازوال داستانوں کے کردار سوہنی، سسی، مومل، رانو، سورٹھ، نوری، لیلیٰ اور مارئی (ماروی) ہیں۔

شاہ لطیف نے اپنے کچھ سروں کے نام بھی ان سورمیوں کے نام پر رکھے ہیں جن میں وہ ان عظیم عورتوں کی خوبیاں اور حیران کن کارنامہ سناتے ہیں۔ جیسے سوہنی مہینوال کی سوہنی آدھی رات کو دریا پار کر کے اپنے محبوب سے ملنے جایا کرتی تھی، تو اس کی کہانی بیان کرتے سر کا نام بھی سوہنی ہے جبکہ اسے گایا بھی آدھی رات کے بعد جاتا ہے۔

استاد منٹھار فقیر کہتے ہیں کہ جس طرح سائیں لطیف نے 7 عورتوں کو اپنی شاعری میں جگہ دی، اسی طرح وہ بھی اپنی زندگی میں 7 عورتوں کو راگ لطیفی سکھانا چاہتے ہیں۔ ’اب تک 4 کو سکھا چکا ہوں، مزید 3 کو سکھانا چاہتا ہوں‘۔

منٹھار فقیر کا ماننا ہے کہ اب سے کئی صدیاں قبل مائی جیواں نے اپنی منت پوری کرنے کے لیے شاہ کا راگ گایا۔ ’پر تائیوان سے آنے والی یہ بچی شاہ کی موسیقی کی محبت میں اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آئی ہے اور اجنبی دیس میں اس صوفی کا کلام سیکھ رہی ہے جس کی موسیقی نے تمام مذاہب کے لوگوں کو محبت کی زنجیر میں باند رکھا ہے‘۔


لطیفی راگ سیکھنے والی بتول کا کہنا ہے کہ اس کے مضامین میں تاریخ کا مضمون بھی شامل ہے جس میں اس نے مائی جیواں کے بارے میں پڑھا۔ اسے شاہ لطیف کی شاعری بھی بہت پسند تھی اور اس کی معنویت اور گہرائی کو سمجھنے کے لیے اس نے لطیفی راگ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

کسی خاتون کا درگاہ پر بیٹھ کر راگ گانا ایک غیر معمولی شے تھی جس پر ان خواتین کو مثبت اور منفی دونوں تاثرات ملے۔ کچھ افراد نے ان کے شوق پر ناگواری کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ ’جب آپ کسی چیز کے لیے جنونی ہوجاتے ہیں تو پھر آپ کے لیے تعریف یا تنقید بے معنی ہوجاتی ہے۔ آپ صرف اپنا جنون پورا کرنا چاہتے ہیں‘۔

شاہ لطیف کی درگاہ کے سامنے قائم مدن فقیر ریزورٹ میں میوزک اسکول بھی قائم کیا گیا ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ اسے جامشورو کی مہران یونیورسٹی سے منسلک کردیا جائے تاکہ موسیقی کے شائق اسے سیکھ کر باقاعدہ ڈگری بھی حاصل کرسکیں۔

شاہ کا راگ سیکھنے والی بتول، غلام سکینہ، صابرہ اور تائیوان کی طالب علم پی لنگ ہانگ اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہیں کہ سندھ کے صوفیائے کرام کا پیغام محبت کا عالمی پیغام ہے اور اگر اس کی معنویت کو سمجھا جائے تو دنیا سے نفرت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں