سوشل میڈیا پر ایک خبر بہت وائرل ہورہی کہ لاہور میں کتے کے کاٹنے سے ریبیز میں مبتلا ہونے والا نوجوان معجزاتی طور پر صحتیاب ہوگیا ہے ۔
مگر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان دعووں سے طبی ماہرین اتفاق کرتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے بائیس سالہ حامد بن کی اسماعیل کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اسے ریبیز کی علامتوں کے ساتھ تڑپتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔
حامد بن اسماعیل الخدمت فائونڈیشن کا رضا کار ہے جو لاہور میں سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں امدادی کارروائیاں سر انجام دیتے ہوئے کتے کے حملے کا نشانہ بنا تھا جس کے بعد اسے لاہور کے میئو اسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔
ریبیز کی علامتوں کے ساتھ تڑپنے کی وڈیو کے بعد اگلے چند روز میں حامد بن اسماعیل کی مزید وڈیوز بھی سامنے آئیں جس میں اس کی حالت بتدریج بہتر دکھائی دی ۔
۔ حامد بن اسماعیل کے ریبیز کے ٹیسٹ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی سے کرائے گئے جس کی رپورٹ منفی آئی ہے ۔
۔ مگر یہ رپورٹ منفی آنے کے بعد بھی حامد بن اسماعیل کی طبعیت میں بہترری کے بعد دوبارہ رونما ہونے والی ریبیز کی علامات نے معجزاتی شفا کے دعووں کو مشکوک بنا دیا ہے ۔
ممتاز ایپیڈیمولوجسٹ اور یونیورسٹی آف نیبراسکا سے منسلک ڈاکٹر رانا جواد نے اے آر وائی نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی مریض میں ریبیز کی علامتیں نمایاں ہوجائیں تو اس کا بچ جانا تقریبا ناممکن ہوتا ہے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریبیز کی علامتیں آنے کے بعد مریض میں کچھ بہتری آجاتی ہے مگر کچھ دنوں میں یہ علامتیں دوبارہ شدید ہوجاتی ہیں جو مریض کے لیئے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں ۔
۔ ڈاکٹر رانا جواد کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ریبیز سے ساٹھ ہزار اموات ہوتی ہیں، جبکہ طبی تاریخ میں ریبیز سے پہلی صحتیابی دو ہزار چار میں ہوئی اور دو ہزار پچیس تک دنیا بھر میں صرف تیس کیسز ایسے ہیں جس میں مریض مکمل صحتیاب ہوئے ہیں، گزشتہ اکیس سال میں ریبیز سے بارہ لاکھ اموات کے مقابلے میں صرف تیس مریضوں کی صحتیابی یہ بتانے کے لیئے کافی ہے کہ میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی آنے کے باوجود ریبیز میں شرح اموات بدستور تقریبا سو فیصد ہی ہے ۔
پاکستان میں ریبیز کی سب سے ممتاز ماہر ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا ہے کہ ریبیز سے صحتیابی کا دعوی کرنے کے لیئے یہ ضروری ہے کہ لیب ٹیسٹ میں ایک بار ریبیز مثبت آیا ہو اور اس کے بعد کیا جانے والے ٹیسٹ میں رپورٹ منفی آئی ہو ۔ بھارت میں ریبیز سے صحتیابی کے دونوں کیسز میں پہلی رپورٹ مثبت آئی تھی جس کی وجہ سے ان مریضوں کی صحتیابی کو تسلیم کیا گیا ہے ۔
۔ ریبیز میں مبتلا لاہور کا حامد بن سلیم بدستور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے اور چھبیس ستمبر کو کرائے گئے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے کے باوجود ڈاکٹرز نے مریض کو کڑی نگرانی میں رکھا ہوا ہے اور وہ بھی یہ قطعیت کے ساتھ یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ حامد بن اسماعیل ریبیز سے مکمل صحتیاب ہوچکا ہے


