کلبھوشن کو سزا دینا ہمارا کام ہے، پیچھے نہیں ہٹیں گے، آئی ایس پی آر -
The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن کو سزا دینا ہمارا کام ہے، پیچھے نہیں ہٹیں گے، آئی ایس پی آر

راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزا ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پردی گئی ہے،اس کو سزا دینا ہمارا کام ہے، پیچھے نہیں ہٹیں گے لاپتہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل نے میڈیا بریفنگ کے بعد صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا عملدرآمد قواعد کے مطابق کردیا جائے گا اسےٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو ریاست مخالف سرگرمیوں پرپکڑا، اس کے خلاف کورٹ مارشل کارروائی ہوئی،یہ فوج کا کام تھا اور فوج نے کہا کہ ہم کمپرو مائز نہیں کریں گے، اب آگے کا قانونی عمل ہے، کیس ایپلٹ کورٹ میں جائے گا اس کا فیصلہ آئے گا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ایسے ثبوت پرسزاسنائی جسے کسی فورم پر جھٹلایا نہیں جا سکتا، اگر اسے کسی بھی فورم پر لے جایا گیا تو فوج اپنا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑے گی، کلبھوشن کو قانون کے تحت قونصلر رسائی نہیں مل سکتی تھی اور نہ ملے گی۔

  1. احسان اللہ احسان نے ہتھیار ڈال دیے


میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد ملک سے فساد ختم کرنے کا عہد ہے‘ رد الفساد کے تحت ملک بھر سے غیر قانونی اسلحے کا صفایا کیا جائے گا، تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں اور عوام کے تعاون کی مدد سے آپریشنوں میں کامیابیاں ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بنے 70 سال ہوئے ہیں ادارے وقت کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں۔

 میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اوران کے ساتھی کہیں بھی ہوں ہمیں ان کوختم کرنا ہے‘ دہشت گردوں کے سرحد پار قیادت سے رابطے ختم کرنے ہیں اورملک سے غیرقانونی ہتھیاروں کو ختم کرنا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت ملک میں چار ریفارمز کرنے ہیں جن میں مدرسہ ریفارم‘ جوڈیشل ریفارم‘ پولیس ریفارم اورفاٹا ریفارم شامل ہیں۔

رد الفساد کے تحت کارروائی


پریس بریفنگ کے دوران میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد ملک سے فساد ختم کرنے کا عہد ہے‘ انہوں نے بتایا کہ ملک بھرمیں 4535انٹیلی جنس آپریشنز کئے گئے اور مختلف کارروائیوں میں 108دہشت گرد مارے گئے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کل 4510 مشتبہ افراد اور1859غیررجسٹرڈ افغان گرفتارکئے گئے جبکہ مجموعی طور پر کل 558 مجرموں نے ہتھیار ڈالے جن میں سے بلوچستان میں 487کالعدم تنظیم کے لوگوں نے ہتھیارڈالے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں 4083 غیر قانونی ہتھیار پکڑے گئے ہیں جبکہ 6 لاکھ 22 ہزار سے زائد گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔ بلوچستان اور فاٹا سے برآمد ہونے والا اسلحہ اس کے علاوہ ہے۔

بریفنگ کے دوران پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دنیادہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردارکوتسلیم کرتی ہے، دنیا میں کوئی ایساملک نہیں جس نے دہشت گردی کا اس قدر جواں مردی سے بھرپورمقابلہ کیا ہو۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یوتھ ہماری ہے اور یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، ماں باپ ہونے کے ناطے ہمیں بچوں پرنظر رکھنی ہے، داعش ایک ذہنیت کا نام ہے جسے ہر گھر کے اندر سے شکست دینی ہے۔

 نورین لغاری کا ویڈیو بیان


ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نورین جیسے نوجوانوں کی سوچ بہتربنانا ہوگی، حیدرآباد میں میڈیکل کی طالبہ کو بھی ورغلایاگیا جسے لاہور سے بازیاب کرایا جاچکا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ نورین لغاری کبھی شام نہیں گئی جبکہ ویڈیو بیان میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ اسے خود کش حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا لیکن 14 اپریل کی رات کو ہی سیکیورٹی فورسز نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور پکڑلیا۔

 آئی ایس پی آر کی جانب سے نورین لغاری کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ‘ اس موقع پرڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے بچے ہیں جو بھٹک گئے ہیں ان کی سماجی زندگی کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں