میں ایک دن اپنے دفتر میں ایک فائل کھولے بیٹھا تھا۔ میرے سامنے موضع مرید پور کے ایک صاحب کا خط تھا جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مرید پور میں بھی فوراً دس کیلو واٹ کا ایک ریڈیو اسٹیشن کھولا جائے۔ ورنہ مرید پور کے ڈیڑھ سو باشندے سب کے سب ریڈیو کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ میں سوچ رہا تھا کہ جواب میں کیا کہوں جس سے اس مجاہد کا جوش ٹھنڈا ہو جائے۔ اور ریڈیو کا محکمہ اس حادثۂ عظیم سے بچ جائے جس کی وہ دھمکی دے رہے ہیں۔ میں اسی خیال میں ڈوبا ہوا تھا کہ یکایک میرے کمرے میں دلّی کے اسٹیشن ڈائریکٹر صاحب مسٹر لکھشماؔ نن مع اپنی مونچھوں کے داخل ہوئے۔
میں سہم گیا۔ میں طبعاً بہت ڈرپوک ہوں اور اسٹیشن ڈائریکٹروں سے تو میں بہت ہی ڈرتا ہوں۔ کیونکہ یہ اصحاب جب ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہزار ہا سننے والوں کے وکیل بن کر آتے ہیں۔ اور جب کوئی نئی تجویز پیش کرتے ہیں اس کی تمہید یہی ہوتی ہے کہ ’’ہمارے ہزار ہا سننے والے جن کی خوشنودی پر ہمارے محکمہ کی بہبود کا انحصار ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ یوں ہو اور یوں نہ ہو۔‘‘ اس لیے جب بھی کوئی اسٹیشن ڈائریکٹر صاحب میرے کمرے میں داخل ہوں، مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ساٹھ ہزار ریڈیو کے شائقین مجھ پر دھاوا بولنے والے ہیں۔ اور پھر میں مسٹر لکھشماؔ نن سے تو بہت زیادہ خوف کھاتا ہوں کیونکہ وہ ہر وقت بغل میں ایک چھوٹی سی چھڑی دبائے پھرتے ہیں۔ جو مختصر مگر ہر لحاظ سے کارآمد معلوم ہوتی ہے۔
ان کی شکل دیکھتے ہی میں نے کہا۔ ’’کہیے حضرت، ہمارے ہزار ہا سننے والے جن کی خوشنودی پر ہمارے محکمے کی بہبود کا انحصار ہے۔ آج کیا چاہتے ہیں۔‘‘ مسٹر لکھشماؔ نن خلاف توقع ہنس دیے۔ جس سے مجھے یک گونہ اطمینان ہوا اور کہنے لگے ’’اب کے جو تجویز میں لے کر آیا ہوں اس میں سننے والوں کی مرضی کو کچھ دخل نہیں۔ جو تجویز میں آج لے کر آیا ہوں وہ میری اپنی تجویز ہے۔ بات یہ ہے کہ مجھ سے ایک حماقت ہوگئی ہے جس کا خمیازہ اب آپ کو بھگتنا ہوگا۔ ہم نے تقریروں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس میں باری باری مختلف قسم کے لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ہونا کیا معنی رکھتا ہے، وہ ہونا کیا معنی رکھتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’مجھے تو یہ کچھ بے معنی سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن خیر فرمائیے۔‘‘ کڑک کر بولے، ’’تو آپ اکیلے کی رائے ہمارے ہزار ہا سننے والوں کے مقابلے میں جن کی خوشنودی پر۔۔۔ خیر تو بہرحال تقریروں کے اس سلسلے میں اب کے براڈ کاسٹر کی باری ہے، اس لیے آپ اس مضمون پر ایک تقریر کر دیجیے کہ براڈ کاسٹر ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’جہاں تک میں اندازہ لگا سکتا ہوں۔ آپ کے ہزار ہا سننے والے جن کی خوشنودی پر محکمے کی بہبود کا وغیرہ وغیرہ ہے وہ تو براڈ کاسٹر کو ایک بے معنی سا انسان سمجھتے ہیں۔ تو براڈ کاسٹر کا معنی رکھنا یعنی کیا معنی؟‘‘ اس پر وہ اس قدر بپھرے کہ غصے کے مارے زبان میں لکنت آگئی۔ کہنے لگے ’’بس صاحب میں اپنے سننے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں ہوں۔ ورنہ میں بھی آپ کو ایسی کھری کھری سناؤں گا کہ آپ سن ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’اگر آپ حکیم کے مشورہ سے مجبور ہیں تو ایسی تقریر کے لیے تو مجھ سے کسی بڑے افسر کو انتخاب کرنا چاہیے جن کا کلام سند ہو۔ اور جو تمام حالات پر ایک بلند نقطۂ نظر سے روشنی ڈال سکیں۔‘‘
کہنے لگے۔ ’’تقریر ہندوستانی میں ہوگی اس لیے کسی بڑے افسر کو تکلیف دینا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔‘‘
میں نے کہا ’’تو پھر جو ہونہار نوجوان ریڈیو اسٹیشن پر کام کرتے ہیں انہیں یہ تقریر کرنی چاہیے۔ وہ براڈ کاسٹنگ کی مشکلات کو بھی مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور اس کی مسرتوں کو بھی۔ میں تو یہاں دفتر میں بیٹھا ہوں، فائلوں کی تلاوت میں مشغول رہتا ہوں، یہاں نہ مائیکرو فون ہے نہ لاؤڈ اسپیکر، نہ یہاں اہلِ علم کے قافلے آتے ہیں، نہ اہلِ فن کے طائفے۔ اصل میں کشتی کے ملّاح تو آپ لوگ ہیں۔ جو رات دن پروگرام وضع کرتے رہتے ہیں۔ میں تو یہاں کنارے پر بیٹھا ہوں، میری تقریر میں وہ بات کہاں پیدا ہو سکتی ہے جو آپ لوگوں کی تقریر میں ہو گی۔‘‘ اس پر مسٹر لکھشماؔ نن بولے ’’ہم لوگوں کو آپ نے کوئی بیکار سمجھ رکھا ہے۔ جو ہم تقریریں کرتے پھریں۔ ہمیں ضروری کاموں ہی سے فرصت کہاں۔‘‘
یقین مانیے اس سے مجھے بے انتہا ندامت ہوئی۔ لیکن اسے میری طبیعت کی پستی کہہ لیجیے۔ یہ گوارا نہ ہوا کہ اپنی بیکاری کا اعتراف کر کے تقریر کی ہامی بھر لوں۔ چنانچہ میں نے پھر انکار کردیا۔
مسٹر لکھشماؔ نن یکلخت اٹھ کھڑے ہوئے۔ میری طرف قہر کی نظروں سے دیکھا۔ اور اپنی چھڑی آسمان کی طرف اٹھا کر بولے۔ ’’اگر آپ یہ تقریر اپنے ذمہ نہ لیں گے تو میں۔۔۔ تو میں۔۔۔‘‘
اس کے بعد وہ لمحہ بھر کو خاموش ہو گئے اور پھر دانت پیس کر بولے، ’’اگر آپ یہ تقریر اپنے ذمہ نہ لیں گے تو میں اپنی مونچھیں منڈا ڈالوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔ اور میں پھر موضع مرید پور کی بڑھتی ہوئی بے چینی پر غور کرنے لگا۔
دوسرے دن کیا دیکھتا ہوں کہ مسٹر لکھشماؔ نن کی مونچھیں سچ مچ ندارد ہیں۔ وہ مونچھیں جن پر ٹرانسٹر کے کھمبوں کا دھوکا ہوتا تھا، وہ مونچھیں جو دہلی کے مشہور اور قابل دید مقامات میں شمار ہوتی تھیں۔ مجھ پر گھڑوں پانی پڑگیا۔ میں نے دل میں سوچا جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ مثل ہے کہ گئی مونچھ پھر ہاتھ آتی نہیں اور ایک اور مثل ہے کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں مونچھ۔ لیکن اگر اب بھی میں تقریر کرنے پر آمادہ ہوجاؤں تو کم از کم ان سے آنکھیں ملانے کے قابل تو ہوجاؤں گا، ورنہ جب مسٹر لکھشماؔ نن کے باحمیت چہرے پر نظر پڑے گی دل چاہے گا جنگل میں دھونی رما کر بیٹھ جاؤں۔ چنانچہ میں نے دل کڑا کر کے ٹیلیفون پر ان سے کہا کہ حضرت میں تقریر کرنے کو تیار ہوں اور پھر جھٹ ٹیلیفون بند کردیا۔ تاکہ میری ہچکیوں اور سسکیوں کی آواز ان کے کان تک نہ پہنچے۔
چند دن بعد معلوم ہوا کہ مونچھیں منڈوانے کا میری تقریر سے کچھ تعلق نہ تھا۔ مسٹر لکھشماؔ نن کی بیگم صاحبہ نے پہلے ہی سے حکم دے رکھا تھا کہ مونچھیں صاف کر دی جائیں۔ تو بہرحال یہ وہ حالات ہیں جن کے ماتحت میں بن بلائے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، اس لیے میں آپ کی سمع خراشی کے لیے تہ دل سے معافی مانگتا ہوں۔ میں اُس صاحبِ ذوق سے معافی مانگتا ہوں جو مس ٹھمری بائی یا استاد خیال خاں کی آس میں ریڈیو کھولے بیٹھے تھے اور جن کے لیے میری تقریر سوہان روح ہو رہی ہے۔ ان ہوٹل والوں سے معافی مانگتا ہوں جن کے خریدار میری تقریر کی وجہ سے ایک ایک کر کے سب باہر چلے گئے ہیں۔ ان اہل زبان حضرات سے معافی مانگتا ہوں جن کو میرا لہجہ ناگوار معلوم ہو رہا ہے اور جو میری زبان کی غلطیوں پر پیچ و تاب کھارہے ہیں۔ ان زباں داں حضرات سے معافی مانگتا ہوں جو ہندوستانی نہیں جانتے یا کم از کم میری زبان کو ہندوستانی نہیں سمجھتے۔ اس میاں بیوی سے معافی مانگتا ہوں جن کی باہمی اخلاص کی گفتگو میں میں مخل ہو رہا ہوں، اس اخبار نویس دوست سے بھی معافی مانگتا ہوں جس کے فرض کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے اخبار میں میری تقریر کی دھجیاں اڑا دے۔ لیکن جس کی طبعی شرافت کا یہ تقاضہ ہے کہ میری کوتاہیوں کو نظر انداز کر دے۔ اس دل جلے سے معافی مانگتا ہوں جس کی تقریر مجھ سے بہت بہتر تھی لیکن اسٹیشن ڈائریکٹر صاحب نے اسے پچھلے ہفتے ردّ کر دیا۔ ان اصحاب سے بھی معافی مانگتا ہوں۔ جنہوں نے ریڈیو کا لائسنس تک نہیں لیا۔ اور جن کا گناہ اس وقت میری تقریر کی وجہ سے گناہ بے لذت ہو رہا ہے۔ اور آخر میں ان غائب حضرات سے معافی مانگتا ہوں جنہوں نے ریڈیو بند کر رکھا ہے اور گھڑی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں کہ کب میری تقریر کا وقت ختم ہو اور وہ ریڈیو کھولیں۔
تو اب میں کیا کہوں کہ ریڈیو والوں پر کیا گزرتی ہے یا بقول اسٹیشن ڈائریکٹر صاحب کے براڈ کاسٹر ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اشارہ کافی ہوتا ہے تو جو کچھ میں اب تک عرض کرچکا ہو ں اس سے آپ اندازہ لگاچکے ہوں گے کہ خدا کے ان حقیر بندوں کو جو آپ کے کانوں کی ضیافت کا سامان مہیا کرنے پر مقرر ہیں۔ کس رکھ رکھاؤ کی زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے دو ایک باتیں جو مجھے اور کہنی ہیں سوچتا ہوں کیونکر کہوں اور کس زبان میں کہوں کہ آپ کی سماعت پر گراں نہ گزرے۔ ریڈیو والوں کو تو آپ نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ پھونک پھونک کر قدم رکھو، چنانچہ ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نہ ہو کہ یہ عمر عزیز پھونکیں مارنے ہی میں ختم ہوجائے اور قدم اٹھانے کی نوبت بھی نہ آئے۔ مثال کے طور پر یہی دیکھ لیجیے کہ میں براڈ کاسٹر کا حال بیان کر رہا ہوں لیکن ڈرتا ہوں کہ آپ کو براڈ کاسٹر کا لفظ ہی بیہودہ اور ثقیل معلوم ہوگا۔ لیکن اس میں ہمارا کیا قصور، میں اس سے بہتر لفظ کہاں سے لاؤں۔
ریڈیو کے قدر دانوں نے یوں تو ریڈیو والوں کے لیے وقتاً فوقتاً بڑے بڑے جذباتی نام تجویز کیے ہیں لیکن اُن میں سے بیشتر ایسے ہیں کہ آپ کے سامنے دہراؤں تو آپ ہی کہیں گے کہ وہ دیکھو ریڈیو لوگوں کے اخلاق کو بگاڑ رہا ہے۔ لہٰذا مجبور ہوں کہ یہی بیہودہ اور ثقیل لفظ استعمال کروں۔ اگر براڈ کاسٹر کی بجائے اپنے آپ کو ریڈیو والے کہیں تو لوگ فوراً پوچھنے لگتے ہیں کہ آپ کی دکان کہاں ہے۔ ایک دوست سے میں نے یہ تکلیف بیان کی تو کہنے لگے، ’’تو کیوں نہیں سوچ ساچ کر کوئی اچھا سا نام اپنے لیے تجویز کر لیتے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’آپ ہی فرمائیے۔‘‘
بولے۔ ’’یہ ریڈیو کا دھندا تو ہوا کا کھیل ہے۔ تم چوکیدار۔ نمبر دار کے وزن پر اپنا نام’’ہوا دار‘‘ کیوں نہیں رکھ لیتے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’یہ لفظ تو مجھے کچھ ٹھیک معلوم نہیں ہوتا۔‘‘
بولے ’’ذرا غور تو کرو، نیا لفظ تو ہمیشہ غیرمانوس معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہوا کی مناسبت سے تم ہوا دار کا لفظ اختیار کر لو تو زبان کی کئی اور دقتیں رفع ہوجائیں گی۔ جو لوگ تم لوگوں سے ہمیشہ اپنی تقریریں کرانا چاہتے ہیں وہ ہوا خواہ کہلائیں گے اور جو لوگ ریڈیو کی خواہ مخواہ مخالفت کرتے ہیں وہ گویا ہوا سے لڑتے ہیں اور چاہو تو ان کی باتوں کو بادِ مخالف کہہ لو۔ جو ہدیہ یا نذرانہ تم اہل فن کی خدمت میں پیش کرتے ہو وہ ہوائی رزق کہلائے گا۔ اور جو شخص گھر میں ریڈیو تو لگاتا ہے لیکن لائسنس کی فیس ادا نہیں کرتا وہ جوتی چور کے وزن پر ہوا چور کہلائے گا یا آدم خور کے وزن پر ہوا خور۔ اور اس کا یہ جرم عدالتوں میں ہوا خوری کے نام سے مشہور ہوگا۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’حضرت ہم نئے الفاظ وضع کرنے سے باز آئے۔ براڈ کاسٹر ثقیل اور بیہودہ سہی لیکن اس پر سر پھٹول تو نہ ہوگی۔
پہلے ٹرانسمشن کا لفظ بھی اسی طرح بیہودہ اور ثقیل معلوم ہوتا تھا، جب اس کی بجائے محفل یا مجلس کا لفظ استعال کرنے لگے تو کسی نے تمغہ تو نہ بھیجا۔ البتہ ایک دیندار بزرگ پیچھے پڑ گئے کہ ’’کیوں صاحب کہاں محفلِ میلاد اور مجلسِ عزا اور کہاں ریڈیو والوں کی دھما چوکڑی؟ آپ کو محفل یا مجلس کا لفظ استعمال کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔‘‘ اور بعض حضرات نے کہا کہ ’’کیوں صاحب مجلس کسے کہتے ہیں؟ یہ لفظ تو آج تک ہم نے کبھی نہیں سنا۔ اور نہ ہم جانتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں۔ کوئی آسان سا لفظ استعمال کیجیے۔‘‘ اس پر مجلس کی جگہ سبھا کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ اس پر بھی کسی نے تمغہ نہ بھیجا۔ البتہ چند مہربانوں نے نہایت ملائمت سے یہ ضرور سمجھایا کہ اگر یہ لفظ بدلا نہ گیا تو ہم ریڈیو اسٹیشن کو آگ لگا دیں گے۔ اور کم از کم ایک اسٹیشن ڈائریکٹر یا اس کے بدلے میں دو پروگرام اسٹیشنوں کو قتل کرڈالیں گے۔ بات پر یاں زبان کٹتی ہے۔ ساٹھ ہزار سننے والے ہیں اور یوں سمجھیے کہ ہر سننے والے نے ریڈیو والوں کے پاؤں میں ایک زنجیر ڈال رکھی ہے جس کو وہ خدا جانے کیا خدشہ محسوس کرکے وقتاً فوقتاً کھینچتا رہتا ہے۔ گویا ریل والوں کی اس نصیحت پر عمل کرتا ہے کہ اگر اپنی حفاظت چاہتے ہو۔ تو کھینچو زنجیر کو۔ چنانچہ اب خیال آتا ہے کہ ٹرانسمشن کا لفظ ہی رہنے دیتے تو بہتر ہوتا۔
میرے دوست یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ میں بھی چپ ہو رہا۔ لیکن میری زبان خاموش تھی۔ دل خاموش نہ تھا۔ دل کہہ رہا تھا کہ کیا سچ مچ ٹرانسمیشن کا لفظ ہی رہنے دیتے تو بہتر ہوتا۔ تم تو کہا کرتے تھے کہ ہندوستان میں براڈ کاسٹر کی سب سے بڑی آرزو یہ ہونی چاہیے کہ یہاں کے ریڈیو کو خدا ہندوستان ہی کا رنگ و روغن نصیب کرے۔ کیا یہ محض لاف زنی تھی یا کیا اس آرزو میں اتنی قوت نہیں کہ مشکلات کا مقابلہ کرسکے۔
دل کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا۔ اور جب کہ صرف دو تین منٹ باقی رہ گئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ سے مشورہ کر لوں کہ اس آرزو کے پورا کرنے کی کیا ترکیب ہے۔ وہ کیا ترکیب ہے جس سے اس مشین میں جو سمندر پار سے یہاں آئی ہے اور جو ریڈیو کہلاتی ہے۔ ہندوستانی دل کی سی دھڑکن پیدا ہوجائے؟ وہ کیا ترکیب ہے۔ جس سے یہ بات پیدا ہو جائے کہ جب ساٹھ ہزار یا لاکھ یا دس لاکھ یا دس کروڑ گھروں کے اندر ریڈیو کے لاؤڈ اسپیکر یک آواز ہو کر بولیں تو آپ کا کان پہچانے اور دل گواہی دے کہ یہ ہندوستان کی آواز ہے۔ جو تہذیب اور فن اس مشین کے ذریعے سے کانوں کے راستے دلوں میں سرایت کرے وہ ہندوستان کی بہترین تہذیب اور ہندوستان کا بہترین فن ہو۔ جس سے دلوں میں امنگیں پیدا ہوں اور دماغوں میں اجالا ہوجائے، یہ بات ہو تو براڈ کاسٹر صحیح معنوں میں آپ کا ہوا دار کہلانے کا مستحق ہوگا۔ ورنہ یہ سب ہوائی باتیں ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنے ہی ہاتھوں سے ایک دوسرے کا گلا گھونٹتے رہے تو ریڈیو پر صرف زخمی تہذیب اور سسکتے ہوئے فن کی چیخیں سنائی دیا کریں گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم سننے والے اور بولنے والے دونوں ایک دوسرے کے گلے سے اپنا اپنا ہاتھ ہٹالیں۔
(اردو کے ممتاز مزاح نگار اور براڈ کاسٹر پطرس بخاری کی یہ تقریر ۲۰/دسمبر ۳۸ء کو برطانوی دور میں دلّی کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہوئی تھی، اور ادبی پرچے ساقی میں شایع ہوئی تھی)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


