قیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ملک کی تاریخ کے اوراق میں جو نام ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے، ان میں مصطفیٰ علی ہمدانی کا نام بھی شامل ہے۔ وہ ایک براڈ کاسٹر اور شاعر تھے جنھوں نے 1947ء میں ریڈیو پر قیامِ پاکستان کی نوید سنائی تھی۔ آج مصطفیٰ علی ہمدانی کی برسی ہے۔
ریڈیو پر قیام پاکستان کا اعلان ہمدانی صاحب نے ان الفاظ میں کیا تھا: ‘السلامُ علیکم، پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس، ہم لاہور سے بول رہے ہیں، 13 اور 14 اگست سنہ 47 عیسوی کی درمیانی شب ہے، 12 بجے ہیں، طلوعِ صبح آزادی۔ قیامِ پاکستان کی نوید سناتی یہ آواز صدا کار مصطفٰی علی ہمدانی کی تھی۔ یہی وہ موقع تھا جب اس خطّے میں مسلمانوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ ساتھ ہی ہجرت کا وہ سلسلہ بھی شروع ہوگیا جس میں لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنا گھر بار، مال و متاع چھوڑ کر پاکستان آنے لگے۔ ریڈیو لاہور سے نشریات کو معمول کی طرف لایا جانے لگا اور خبروں کے ساتھ ترانے اور چند پروگرام نشر کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس ابتدائی زمانہ میں مصطفیٰ علی ہمدانی نے بھی ریڈیو پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی ریڈیو پاکستان سے یہ وابستگی 1969ء تک برقرار رہی۔ علی ہمدانی چیف اناؤنسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ 1971 میں بھارت نے جب ملک کے مشرقی حصّے میں مداخلت کی تو اس موقع پر رضا علی ہمدانی رضاکارانہ طور پر ریڈیو پاکستان پر اپنی قوم کا جذبہ بڑھا رہے تھے۔ بعد میں اس وقت کے وزیراطلاعات و نشریات مولانا کوثر نیازی کے بے حد اصرار پر انھوں نے ایک معاہدے کے تحت 1975ء تک اناؤنسر کی تربیت کی۔
21 اپریل 1980ء میں مصطفی علی ہمدانی انتقال کرگئے تھے۔ وہ 29 جولائی 1909ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن انشا پرداز مولانا محمد حسین آزاد کے گھر میں گزرا۔ اس آفتابِ علم کے ساتھ رہتے ہوئے ان میں مطالعہ اور علم و ادب کا شوق کیسے پیدا نہ ہوتا۔ سو، انھوں نے فن کی دنیا سے ناتا جوڑا۔ وہ 1939ء میں تقسیم سے قبل اس وقت کے لاہور ریڈیو اسٹیشن سے بطور براڈ کاسٹر وابستہ ہوئے تھے۔ مصطفٰی علی ہمدانی ہی نے لاہور اسٹیشن سے بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وفات کی جانکاہ خبر بھی سنائی تھی۔ 1965ء کی جنگ کے دوران بھی ان کی آواز خصوصی نشریات کے دوران قوم سنتی رہی تھی۔
مصطفٰی علی ہمدانی اردو کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ وہ اردو الفاظ کے تلفظ اور درست ادائی کے لیے مشہور ہی نہیں تھے بلکہ ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔


