The news is by your side.

Advertisement

رافیل طیارے : کروڑوں روپے رشوت لینے والی بھارتی کمپنی کا بھانڈا پھوٹ گیا

نئی دہلی : جنگی طیارے رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ کو بھارت میں ایک مڈل مین کو ایک ملین یورو بطور تحفہ دینا پڑے تھے، رافیل ڈیل پر پہلے بھی بدعنوانی کے الزام لگتے رہے ہیں۔

بھارت فرانس کے درمیان ہونے والا رافیل جنگی طیاروں کا معاہدہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگیا۔ فرانس کے ایک پبلی کیشن نے رافیل طیارہ معاہدے میں بدعنوانی کے حوالے سے چند انکشافات کیے ہیں۔

فرانس کی “میڈیا پارٹ” نامی نیوز  ویب سائٹ نے رافیل پیپرز کے نام سے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ کو بھارت میں ایک سودا کرانے والے ایک مڈل مین کو ایک ملین یورو ’بطور تحفہ‘ دینا پڑے تھے۔

بھارتی میڈیا کی خبر کے مطابق فرانس کی نیوز ویب سائٹ “میڈیا پارٹ” نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 2016میں جب رافیل جنگی طیاروں کے حوالے سے بھارت اور فرانس کے درمیان معاہدہ ہوا تو اس کے بعد ڈسالٹ کمپنی کی جانب سے ایک ملین یورو بطور تحفہ دیئے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال2017میں ڈسالٹ گروپ کے اکاؤنٹ سے 508925 یورو “گفٹ ٹو کلائنٹس” کے طور پر منتقل ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق دراصل فرانس کی اینٹی کرپشن ایجنسی “اے ایف اے” نے ڈسالٹ کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا جس میں اس بات کا انکشاف ہوا۔ میڈیا پارٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہونے پر ڈسالٹ نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پیسوں کا استعمال رافیل جنگی طیارہ کے بڑے “ماڈل” بنانے میں ہوا تھا لیکن ایسے کوئی ماڈل بنے ہی نہیں تھے۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آڈٹ میں یہ بات سامنے آنے کے بعد بھی تحقیقاتی ایجنسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جو فرانس کے سیاسی رہنماؤں اور عدالتی نظام کی ملی بھگت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس میں سال2016میں ایک ایجنسی “پارکوئٹ نیشنل فنانسیر” (پی این ایف) نے اس رافیل ڈیل میں گڑبڑ کی بات کی تھی جس پر یہ آڈٹ کروایا گیا اور یہ باتیں عیاں ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق آڈٹ کے دوران لگنے والے الزامات کا ڈسالٹ گروپ کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا اور اس نے آڈٹ ایجنسی کے الزامات کے جواب بھی نہیں دیئے۔ ساتھ ہی ڈسالٹ یہ تک نہیں بتا سکا کہ آخر اس نے یہ تحفے کی اتنی بڑی رقم کسے اور کیوں دی تھی؟

بھارتی میڈیا کی خبر کے مطابق جس ہندوستانی کمپنی کا نام اس رپورٹ میں لیا گیا ہے، اس کا پہلے بھی تنازعات سے تعلق رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کا مالک پہلے آگستا ویسٹ لینڈ گھوٹالے کے کیس میں جیل بھی جا چکا ہے۔

علاوہ ازیں اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد بھارت کے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ “رافیل ڈیل میں بدعنوانی کے حوالے سے آخر کار سچائی سامنے آ گئی ہے۔ ہماری تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن سچائی فرانس سے آگئی۔ ہماری حکومت اور ہماری ایجنسیوں کو شرم آنی چاہئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں