The news is by your side.

Advertisement

رافیل ڈیل کی تحقیقات کا حکم، مودی کی مشکلات بڑھ گئیں

نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے رافیل ڈیل کی خفیہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کا حکم جاری کردیا، مودی حکومت کو طیاروں کی خریداری میں کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات سے ایک روز قبل بھارتی سپریم کورٹ نے رافیل طیاروں کی خریداری کے حوالے سے ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے رافیل طیاروں کے خفیہ معاہدے اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کا مرحلہ کل سے شروع ہورہا ہے، بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق سپریم کورٹ کا حکم بی جے پی کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتا ہے کیونکہ مودی حکومت پر طیاروں کی ڈیل کے حوالے سے کرپشن کا الزام ہے۔

مزید پڑھیں: رافیل طیاروں کی ڈیل: مودی نے 30 ہزارکروڑامبانی کی جیب میں ڈالے

یاد رہے کہ بھارت کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کے صدر راہول گاندھی نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ رافیل طیاروں کی ڈیل میں براہ راست نریندرمودی کا نام آرہا ہے، بھارتی وزیر اعظم نے 30 ہزار کروڑ روپے امبانی کی جیب میں ڈالے۔

راہول گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ نریندر مودی امبانی کو معاہدے دینا چاہتے تھے اس لیے رافیل وقت پرنہ آئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مودی کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ایک روز قبل بھارتی سپریم کورٹ میں رافیل طیاروں کے معاہدے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔ بھارتی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ رافیل طیاروں کے معاہدے سے متعلق دستاویزات چوری ہوچکی ہیں۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت سے ایک روز قبل صدر راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ رافیل طیاروں کے دھوکے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت ہیں۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ جرم ثابت کرنے والی رافیل طیاروں کی فائلیں چوری کروا کرمودی نے کرپشن چھپانے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں: راہول گاندھی نے مودی کو کرپٹ انسان قرار دے دیا

واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سنبھالنے کے ایک برس بعد فرانس سے36 جیٹ طیارے خریدنے کا معاہدہ طے کیا تھا جس پر کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں