تقسیمِ ہند سے قبل رفیق غزنوی بحیثیت موسیقار، گلوکار اور اداکار اپنا سفر شروع کرچکے تھے اور ان کو ایک بہترین موسیقار کے طور پر سراہا جانے لگا تھا مگر بعد میں رفیق غزنوی کا یہ سفر ماند پڑ گیا۔ وہ اپنے شناساؤں اور بے تکلف دوستوں میں تو عاشق مزاج اور حسن پرست مشہور تھے ہی مگر جب سعادت حسن منٹو نے ان کا خاکہ لکھا تو گویا "بدنامی” کو پَر لگ گئے۔
آج رفیق غزنوی کی برسی ہے۔ وہ 1974ء میں کراچی میں وفات پاگئے تھے۔ رفیق غزنوی کا مختصر تعارف پڑھ لیجیے۔ راولپنڈی میں 1907ء میں پیدا ہونے والے رفیق غزنوی شروع ہی سے موسیقی کے دلدادہ تھے۔ کتب بینی اور فنونِ لطیفہ میں ان کی دل چسپی عمر کے ساتھ بڑھی اور وہ زمانۂ طالب علمی میں اپنے کالج میں اسٹیج پروگراموں اور ڈراموں میں حصّہ لینے لگے۔ اسکول کے دور میں گانے بجانے کا شوق ہوگیا تھا اور کالج میں بطور گلوکار بھی مشہور ہوگئے تھے فلمی کیریئر کا آغاز بطور اداکار کیا۔ فلم ساز اور ہدایت کار اے آر کاردار نے رفیق غزنوی کو اپنی خاموش فلم سرفروش میں پہلی بار موقع دیا تھا۔ یہ 1930ء کی بات ہے اور بعد میں رفیق غزنوی نے لاہور میں بننے والی پہلی ناطق فلم ہیر رانجھا میں مرکزی کردار ہی ادا نہیں کیا بلکہ فلم کی موسیقی بھی ترتیب دی اور خود پر فلمائے گئے تمام گیت بھی اپنی ہی آواز میں ریکارڈ کروائے۔ اس فلم کے بعد وہ دہلی چلے گئے۔ وہاں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے اور پھر بمبئی منتقل ہوگئے۔ بمبئی میں لیلیٰ مجنوں اور سکندر سمیت کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ’پشاوری موسیقار‘ کے نام سے مشہور رفیق غزنوی کو ٹھمری، دادرا اور خیال گانے میں ملکہ حاصل تھا۔ ان کو مختلف راگوں پر بھی عبور حاصل تھا۔
تقسیم ہند کا اعلان ہوا تو رفیق غزنوی کراچی چلے آئے۔ یہاں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے مگر کہا جاتا ہے کہ تقسیم سے قبل فن کی دنیا میں اپنا عروج دیکھنے والے اور اپنے شان دار کام سے پہچان بنانے والے رفیق غزنوی کی زندگی یہ بڑا حصّہ غیر تخلیقی رہا اور اس کی وجہ ان کے وہ مشاغل تھے جنھیں منٹو نے اپنے خاکے میں بیان کیا ہے۔
رفیق غزنوی نے گورڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کیا تھا۔ استاد عبدالعزیز خان صاحب سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے اور جب فلم کی دنیا میں قدم رکھا تو برصغیر کے بہترین موسیقاروں میں ان کا نام لیا جانے لگا۔ رفیق غزنوی اس کمیٹی کے رکن بھی رہے جس نے ملک کے قومی ترانے کی دھن منظور کی تھی۔ تاہم ایک موقع پر ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری سے اختلافات کے باعث رفیق غزنوی نے ملازمت چھوڑ دی تھی۔
رفیق غزنوی خوبرو نوجوان تھے اور حسن پرست بھی، اس پر مستزاد ان کا تعلق فلمی دنیا سے تھا جہاں ہر طرف حسن کے جلوے بکھرے ہوئے تھے۔ رفیق صاحب ایک فلم کی ہیروئن انوری کو گانوں کی ریہرسل کراتے ہوئے اسے اپنا دل دے بیٹھے اور اس سے خفیہ شادی کر لی، جب انوری کی ماں کو اس صورت حال کاعلم ہوا تو اس نے تھانے میں رفیق کے خلاف پرچہ کٹوا دیا۔ لیکن لڑکی نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کا بیان دے دیا۔ یوں عدالت سے باعزت طور پر بری ہوگئے۔ رفیق غزنوی نے اورینٹل پکچرز کی ایک فلم ’’پوترگنگا‘‘ کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اس فلم کی تکمیل کے بعد اپنی شریک سفر انوری کے ہمراہ لاہور سے بمبئی چلے گئے تھے جہاں فلم ’’پرتھوی راج سنجوگتا‘‘ اور’’انتقام‘‘ کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ یہ فلمیں 1933ء میں ریلیز ہوئیں، فلم انتقام کے لیے رفیق غزنوی نے سات گیت بھی ریکارڈ کرائے تھے۔ انھوں نے بعد میں انوری کو طلاق دے دی تھی۔ 1934ء میں رفیق غزنوی نے فلم ’’جوانی دیوانی‘‘ میں زہرا کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا اور اس فلم کی موسیقی بھی ترتیب دی۔ فلم بندی کے دوران زہرا سے نئے عشق کو بھی شادی تک پہنچایا۔ اور پھر اسے بھی طلاق دے دی اور اداکارہ انورادھا سے جو کہ زہرا کی بہن تھی، شادی کر لی۔ قارئین کو بتاتے چلیں کہ معروف پاکستانی گلوکارہ اور اداکارہ سلمیٰ آغا رفیق غزنوی کی نواسی ہیں جب کہ ممتاز فلمی ہدایت کار ضیاء سرحدی ان کے داماد تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور اداکار خیام سرحدی بھی رفیق صاحب کے نواسے تھے۔
منٹو اپنے شخصی خاکوں اور مضامین میں جہاں اپنے ممدوح کے فن و کمال پر بات کرتے ہیں، وہیں ان کا قلم بڑے بے لاگ انداز میں نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی نمایاں کر دیتا ہے۔ رفیق غزنوی سے بھی منٹو کا یارانہ تھا۔ منٹو نے ان کا بھی شخصی خاکہ لکھا اور اسی ڈھب سے لکھا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ اس خاکے کی اشاعت کے بعد رفیق غزنوی منٹو سے ناراض ہوگئے اور کہا کہ منٹو وہ آدمی ہے جو اپنے دوستوں کی زندگی کو بیچ رہا ہے۔
سعادت حسن منٹو کے اس خاکے سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے: "معلوم نہیں کیوں لیکن میں جب بھی رفیق غزنوی کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے معاً محمود غزنوی کا خیال آتا ہے جس نے ہندوستان پرسترہ حملے کیے تھے جن میں سے بارہ مشہور ہیں۔ رفیق غزنوی اور محمود غزنوی میں اتنی مماثلت ضرور ہے کہ دونوں بت شکن ہیں۔ رفیق غزنوی کے پیش نظر کوئی ایسا سومنات نہیں تھا جس کے بت توڑ کر وہ اس کے پیٹ سے زر و جواہر نکالتا پھر بھی اس نے اپنی زندگی میں کئی طوائفوں کو (جن کی تعداد بارہ تک پہنچ سکتی ہے) استعمال کیا۔ ”
"رفیق غزنوی کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے آبا و اجداد غزنی کے رہنے والے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس نے غزنی دیکھا ہے یا نہیں۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ پشاور میں رہتا تھا، اس کو پشتو بولنا آتی ہے، افغانی، فارسی بھی جانتا ہے۔ ویسے عام طور پر پنجابی میں گفتگو کرتا ہے۔ انگریزی اچھی خاصی لکھ لیتا ہے۔ اردو میں اگر مضمون نگاری کرتا تو اس کا بڑا نام ہوتا۔”
منٹو اپنے دوست کی علم و ادب سے دل چسپی اور معلومات کا حال یوں بیان کرتے ہیں: "اس کو اردو ادب سے بڑا شغف ہے۔ اس کے پاس اردو لٹریچر کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ جب میں نے پہلی مرتبہ گلشن محل (بمبئے) میں اس کے کمرے میں بڑی ترتیب سے رکھی ہوئی کتابیں دیکھیں تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ وہ محض ایک میراثی ہے جسے ادب سے کوئی واسطہ نہیں ہوسکتا لیکن جب اس سے باتیں ہوئیں تو اس نے ایسے ایسے مصنفوں کا نام لیا جن سے میں واقف نہیں تھا۔”
منٹو نے ایک مضمون میں لکھا: "جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ زندگی بھی رفیق کے نزدیک ایک طوائف ہے۔ وہ ہر رات اس کے ساتھ سوتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی پہلے سانس کے ساتھ وہ اس سے جگت بازی شروع کر دیتا ہے۔ اس کا گانا سنتا ہے، اپنا سناتا ہے، پھکڑ بازی ہوتی ہے اور یوں ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔ میں نے اس کو کبھی ملول نہیں دیکھا۔ وہ بے حیائی اور ڈھٹائی کی حد تک ہر وقت خوش رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تندرست ہے۔ اتنی عمر ہونے پر بھی آپ اسے معمر نہیں کہہ سکتے بلکہ جوں جوں اس کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے وہ جوان ہوتا چلا جا رہا ہے۔”
مشہور صحافی اور مقبول فکاہیہ نگار نصر اللہ خاں نے اپنی تصنیف ‘کیا قافلہ جاتا ہے‘ میں رفیق غزنوی پر اپنا مضمون شامل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں: اور جب رفیق بہت بیمار ہوا تو میں نے کہا: ”بھائی! اب تو توبہ کر لے اور اپنے لیے دُعا کر“ تو رفیق نے قہقہہ لگایا اور کہا: ”ہم اللہ میاں سے روٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ہمیں نہیں مناتے تو ہم اُنہیں کیوں منائیں۔ خیر یہ ہمارے اللہ میاں سے معاملات ہیں جو اب وہیں طے ہوں گے۔“
رفیق غزنوی کی چند یادگار فلموں میں جوانی دیوانی، پریم پجاری، دھرم کی دیوی، پریم یاترا، اپنی نگریا، تقدیر، بہو رانی، نوکر اور سکندر شامل ہیں۔ پاکستان میں انھوں نے بطور موسیقار ’پرواز، انوکھی بات اور منڈی‘ جیسی فلموں کے گانوں کی دھنیں تیار کی تھیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


