The news is by your side.

Advertisement

دہشت گردوں کے سلیپر سیلز ختم کریں گے، آرمی چیف کا راجگال میں جوانوں سے خطاب

راولپنڈی: آرمی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف نے خیبرایجنسی کی وادی راجگال کا دورہ کر اگلے مورچوں پر تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات کی اور آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں کے حوصلے کو سراہا۔

پاک فوج کے تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف نے خیبرایجنسی پاک افغان بارڈر کے قریب راجگال میں جاری آپریشن کا جائزہ لینے پہنچ گئے، اس موقع پر کور کمانڈر پشاور سمیت دیگر اعلیٰ فوجی افسران نے آرمی چیف آف اسٹاف کا استقبال کیا۔

آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’آرمی چیف کو راجگال میں جاری آپریشن پر بریفنگ دی گئی جسے انہوں نے سراہتے ہوئے آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں کے کردار کو سراہا‘‘، اس موقع پر آرمی چیف نے آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں سے ملاقات کی اور اُن کے حوصلے بلند کیے‘‘۔

پڑھیں:  خیبرایجنسی میں فضائی کارروائی، شدت پسندوں کے 9 ٹھکانے تباہ

آرمی چیف آف اسٹاف نے فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف قوم اور پاک افواج نے بھاری قیمت ادا کی ہم آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اس جنگ کو جاری رکھیں گے، انہوں نے اگلے مورچوں پر تعینات فوجی جوانوں کو ہدایت کی کہ ’’وہ سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے لیے ہر وقت چوکس رہیں‘‘۔

جنرل راحیل شریف نے اس عزم کا اظہا کیا کہ ’’ملک بھر سے دہشت گردوں کے سلیپرسیلز کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’’ملک بھر سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کیے جائیں گے اور دہشت گرد جس مقام پر بھی موجود ہوں گے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘‘۔

مزید پڑھیں:  خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی، 11 دہشت گرد ہلاک

جنرل راحیل شریف نے خیبر ایجنسی کے آپریشن میں حصہ لینے والے فوجی جوانوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ’’راجگال آپریشن ایک کٹھن مرحلہ ہے مگر جوانوں کے بلند حوصلے سے اس میں کامیابی حاصل کر یں گے اور سرحدوں کے دونوں طرف موجود دہشت گردوں پر بہتر نظر رکھیں گے‘‘۔

واضح رہے پاک افغان بارڈر سے متصل خیبرایجنسی کی وادی راجگال کے مقام پر پاکستان آرمی کی جانب سے آپریشن شروع کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردوں کے خلاف زمینی و فضائی کارروائی کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز آرمی کی جانب سے فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے تباہ کیے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں