The news is by your side.

Advertisement

پول کھلنے کا ڈر، راہول گاندھی اور اپوزیشن رہنماوں کو مقبوضہ وادی جانے سے روک دیا گیا

نئی دہلی : بوکھلائی مودی سرکارمقبوضہ کشمیرمیں مظالم پربےنقاب ہونےلگی ، مودی سرکار نے کانگریسی رہنماراہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کو مقبوضہ وادی جانے سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق کانگریس رہنما راہول گاندھی، اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد سمیت دیگراپوزیشن رہنما کے ہمراہ سری نگر پہنچے، جہاں قابض انتظامیہ نے  انھیں ایئرپورٹ سے نکلنے ہی نہیں دیا گیا اور جبراًواپس بھیج دیا۔

راہول گاندہی کاطیارہ لینڈ ہوتے ہی سری نگرہوائی اڈے پر ایمرجنسی نافذکی گئی ، بھارتی فوجیوں کی جانب سے ایئرپورٹ پرکانگریس کےرہنماؤں پربھی تشدد کیا۔

کانگریس رہنمااورراجیہ سبھامیں اپوزیشن رہنماغلام نبی آزادنےسوالات اٹھائے کہ کشمیرکی صورتحال معمول پر ہے تو سیاسی رہنماؤں کو کیوں گرفتار کیاگیا جبکہ اپوزیشن لیڈر راجیہ کا بھی کہنا تھا کہ کشمیر پہنچنے والے سیاسی رہنماؤں کو واپس کیوں بھیجاگیا۔

دوسری جانب بھارتی فوج نے راہول گاندھی کی کوریج کے لیے پہنچنے والے بھارتی صحافیوں کو کوریج سے روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے راہول گاندھی اورغلام نبی آزاد نے سرینگر جا کر زیر حراست سیاسی رہنماؤں سے ملنے اور جموں اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سری نگر روانگی سے راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہم مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال خراب کرنےنہیں جارہے، جانے سےروکا گیاتواس کامطلب ہوگا حکومت کچھ چھپارہی ہے جبکہ غلام نبی آزاد نے کہا تھامقبوضہ کشمیرمیں اگر صورتحال ٹھیک ہے تو مودی سرکار ہمیں وہاں جانے کیوں نہیں دے رہی۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے انتباہ کیا راہول گاندھی مقبوضہ کشمیرنہ آئیں، دورے سے صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔

یاد رہے غلام نبی آزاد کو 2 بار سری نگر ائیرپورٹ سے واپس دہلی بھیجا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیں : کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر راہول گاندھی کی مودی سرکار پر کڑی تنقید

خیال رہے اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت سے آرٹیکل 370 بحال کرنےکا مطالبہ کیا تھا ، کانگریس رہنما غلام نبی آزاد نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ غلط ثابت ہوچکا ہے، مودی سرکار کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کورہا کرے۔

واضح رہے مقبوضہ کشمیرمیں بیس روزسے نافذ کرفیونے کشمیریوں کوگھروں میں قید کردیا ہے۔بھارتی مظالم کیخلاف کشمیری پابندیاں توڑ کرسڑکوں پرآگئے۔

مظاہرین پربھارتی فورسزنے آنسوگیس کی شیلنگ کی اورپیلیٹ گنزکا استعمال کیا جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ گرفتار مزید تیس کشمیری نوجوانوں کوآگرہ جیل منتقل کردیا گیا۔

مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ،موبائل سروس اورلینڈ لائن فون بدستوربند ہیں، مسلسل لاک ڈاؤن سے لوگ دواؤں اورکھانے پینے کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں۔بھارتی فوجی آدھی رات کوچھاپے مارکرکشمیری نوجوانوں کوگرفتارکررہی ہے اور ان افراد کے اہلخانہ کوبھی ان کے بارے میں معلومات نہیں دی جارہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں