The news is by your side.

Advertisement

کرنسی نوٹوں کی بندش بھارت کی تاریخ کا بڑا گھپلا ہے، راہول گاندھی

نئی دہلی : کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کی بندش کو بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا گھپلا قرار دے دیا۔ نریندر مودی کو ڈرپوک کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بھاشن دینے والے مودی ایوان میں آنے سے خوف زدہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں پر پابندی کے فیصلے سے عوام رُل گئے اور بینکوں کے باہرلائنوں میں لگے دھکے کھاتے رہے۔

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے موجودہ حکومت کی جانب سے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا گھپلہ قرار دیا ہے۔ جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کرنسی کے معاملے پر پارلیمان میں ہونے والی بحث میں حصہ لینے سے خوفزدہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت مجھے بولنے سے روک رہی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ مجھے بولنے دیں گے تو حقیقت سامنے آجائے گی۔ ملک میں زلزلہ آ جائے گا۔ میں بتاؤں گا کہ یہ اقدام کس کو فائدہ پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ کے باہر کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ نریندر مودی کو ڈرپوک کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بھاشن دینے والے مودی ایوان میں آنے سے خوف زدہ ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے آٹھ نومبر کو پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایوان کی کارروائی اسی تنازع کی وجہ آگے نہیں بڑھ سکی۔

مزید پڑھیں : کرنسی نوٹوں پر پابندی، بھارتی عوام اذیت میں مبتلا

اس حوالے سے مشہور بھارتی ماہر اقتصادیات بھارت جھنجھنوالا نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کساد بازاری کا شکار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ‘میں نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف ہوں، سرکار کالا دھن ختم کرنا چاہتی تھی لیکن اسے کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔

ہنس مکھ آدھیا نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جتنی بھی کرنسی ختم کی گئی تھی، اب امکان ہے کہ وہ ساری بینکنگ کے نظام میں لوٹ آئے گئی۔ ساڑھے گیارہ لاکھ کروڑ روپے پہلے ہی بنکوں میں جمع کرائے جا چکے ہیں اور اب صرف تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے باقی بچتے ہیں۔ عام تاثر ہے کہ اس پالیسی پر وزیر اعظم کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں