The news is by your side.

Advertisement

ریلوے کراسنگ کی تعمیر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، خواجہ سعد رفیق

لاہور : وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریلوے کراسنگ کےباعث حادثات میں نظام کی غلطی نہیں ملی ریلوےکراسنگ پر ریفلیکٹر لگانے کےمنصوبے پرکام کر رہے ہیں۔

وہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے بتایا کہ 3 سال میں پھاٹک پر حادثات میں 80 افراد جاں بحق ہوئے، ریلوے کراسنگ پراب ہمیں کچھ فیصلےکرنا پڑیں گے اور ریلوےکراسنگ کے لیے بی اوٹی کی بنیاد پر منصوبوں پرغور جاری ہے۔


*لودھراں حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہوگئی، 6 بچوں‌ کی تدفین


انہوں نے کہا کہ بغیرگارڈ کے ریلوے پھاٹک کی تعداد 2470 ہے، گیٹ عملےکےاخراجات کی ذمےداری صوبائی حکومتوں کی ہے جس سے متعلق صوبائی حکومتوں کو خطوط بھی لکھے اور وزرائے اعلیٰ سے ذاتی طور پر بھی ملا لیکن سوائے پنجاب حکومت کےکہیں سےتعاون نہیں ملا۔


*گوجرہ:کارشالیمارایکسپریس کی زد میں آگئی،6افرادجاں بحق،پولیس


خواجہ سعد رفیق نے کہا وفاق کی جانب سے خطوط لکھنے اور دباؤ ڈالنے کے باوجود صوبائی حکومتوں 3 سال میں کہیں بھی ریلوے کراسنگ نہیں بنائی اس معاملے میں صوبائی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔


*خانیوال : پاکستان ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، چوبیس مسافر زخمی


وفاقی وزیر برائے ریلوے کا کہنا تھا کہ تین سال کےدوران ٹرینوں کی تعداد اور رفتار بڑھائی گئی ہے اسی طرح ریلوے کراسنگ کےانتظامات پر25 ارب روپے خرچ کریں گے نئےنظام سےگیٹ کیپر، گارڈ اور ڈرائیور میں رابطہ ہوگا ٹرینوں میں جی پی ایس نظام لگانے پر غور کر رہے ہیں۔


*چنے کھانے کے شوقین ڈرائیور نے چلتی ٹرین روک دی


واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دو سے زائد ٹرین حادثوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں یہ حادثات ریلوے کراسنگ پر ٹرین کی آمد کے وقت پھاٹک بند نہ ہونے کی وجہ سے پیش آئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں