کراچی، کالے بادل، تیزہوائیں اور موسلا دھار بارش rain
The news is by your side.

Advertisement

کراچی، کالے بادل، تیزہوائیں، موسلا دھاربارش، موسم خوشگوار

کراچی : گلستان جوہر، صفورا گوٹھ، ملیر، کراچی ایئرپورٹ، گلشن حدید، نیشنل ہائی وے،صدر اور کھارادار سمیت کئی علاقوں میں ابر رحمت نے برسنا شروع کردیا ہے جب کہ کچھ علاقوں میں آسمان نے کالے بادل اوڑھ لیے ہیں اور وہاں تیز ہوائیں بارش کی نوید سناتی نظر آرہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عید کے تیسرے دن اہالیان کراچی کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں جب آنآ فانآ کچھ علاقوں میں کالے بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوگئی۔

اس وقت گلستان جوہر، صفورا گوٹھ، یونیورسٹی روڈ، ملیر، گلشن حدید، نیشنل ہائی وےاورماڈل کالونی میں تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے دوسری جانب صدر، کھارادر اور برنس روڈ میں بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے اور لوگ شدید گرمی کے بعد ہونے والی موسلا دھار بارش سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

ضلع وسطی اور مغربی کراچی کے رہائشی بارش کے منتظر


جب کہ کراچی کے دیگر اضلاع جیسے وسطی، غربی وغیرہ کو کالے بادلوں نے ڈھانپ لیا ہے اور تیز ہوائیں بارشوں کی نوید بن کرعلاقہ مکینوں کو بارشوں کے لیے منتظر رہنے کے لیے اشارہ دے رہی ہیں اور لوگ ابر رحمت کے انتظار میں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔

تاہم خوشگوارانتظارختم ہوا اور دیگر علاقوں کے بعد بارتھ کراچی اور سرجانی ٹاؤن میں موسلا دھار بارش ہوئی جس کے باعث ناگن چورنگی نالہ ابل کر پوری شاہراہ کو دریا میں تبدیل کردیا اور ٹریفک جام ہوگیا۔

بارش کی پہلی بوند کے ساتھ بجلی منقطع


دوسری جانب بارش کی پہلی بوند گرتے ہی کے الیکٹرک کے  300 فیڈرزٹرپ کرگئے جس کی وجہ سے کراچی ایئرپورٹ سمیت گلشن معمار، گلستان جوہر، محمودآباد، گرومندر، کورنگی بسمیت کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے، کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی نے شہریوں کے لیے ابر رحمت کو زحمت بنا دیا۔

یہی نہیں بلکہ کراچی کے وہ علاقے جہاں ابھی بارش نہیں ہوئی وہ بھی تاریکی میں ڈوب گئے ہیں چناچہ اورنگی ٹاؤن، نیوکراچی، شادمان ٹاؤن، سہراب گوٹھ، انڈاموڑ، یوپی موڑ، سرجانی اور نارتھ ناظم آباد میں بھی بجلی منقطع ہوچکی ہے اور شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔

کراچی ایئرپورٹ، ملکی و غیر ملکی پروازیں معطل، بجلی منقطع


کراچی ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق موسم کی خرابی کے باعث اندرون وبیرون ملک جانےوالی پروازیں روک دی گئی ہیں تاہم موسم ٹھیک ہوتے ہی پروازیں روانہ کرنا شروع کردی جائیں گی جب کہ کراچی سے سکھرجانے والی پرواز پی کے536 کراچی ایئرپورٹ پر اتار لی گئی دوسری جانب بارش کے باعث کراچی ایئرپورٹ کی بجلی بھی منقطع ہو گئی ہے جس سے مسافروں کی پریشانی میں مذید اضافہ ہو گیا ہے۔

شاہراہوں پر پانی جمع ، ٹریفک جام ، شہری پریشان 


بارش کی وجہ سے نکاسی آب کے ناقص نظام نے شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے اور گلی محلوں کے ساتھ ساتھ بڑی اور مصروف شاہراہیں بھی پانی میں ڈوب گئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے۔

کراچی کی مصروف ترین شاہراہ شارع فیصل پر بھی بارش کا پانی کھڑا ہو گیا ہے جس کے باعث ٹریفک جام ہو گیا ہے اور کئی گاڑیاں خراب ہو کر سڑک پر ہی کھڑی ہیں جس سے ٹریفک روانی تعطل کا شکا ر ہے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ کی شہریوں کو ہدایت 


ایم ڈی واٹربورڈ سید ہاشم رضا نے کہا ہے کہ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر لائن پھٹنے کے بعد متعلقہ اعلیٰ حکام کو موقع پرپہنچنے کی ہدایت کردی ہے جب کہ بھاری مشینری بھی دھابیجی روانہ کردی گئی ہے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے کراچی کے شہریوں سے  پانی کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب تک کراچی کو 50 ملین گیلن پانی فراہم نہیں کیا جاسکا جس کے باعث پانی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے اس لیے شہری پانی احتیاط سے استعمال کریں۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے تمام پمپنگ اسٹیشن پر موجود عملے کو نکاسی آب کے لیے مشینری کو پوری استعداد کے ساتھ استعمال کرنے کی ہدایت کی جب کہ بجلی کے تعطل کی صورت میں جنریٹر کے استعمال اور اس کے لیے ڈیزل کا بندوبست کر رکھنے کا حکم جاری کیا۔

کراچی میں بارشوں کا سلسلہ دو دن تک جاری رہے گا


محمکہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون بارشوں کے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے اور شرقی کے علاقوں صفورا گوٹھ، گلستان جوہر، ملیر، لانڈھی، ایئرپورٹ، شاہ فیصل کالونی، گلشن حدید سمیت کئی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم کراچی کے مغربی علاقوں میں ابھی بارش نہیں ہوئی ہے۔

ڈائریکٹرمحکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز بارش کی پیش گوئی کی تھی جو پوری ہوئی اور کراچی میں شروع ہونے والے بارشوں کا یہ سلسلہ مذید دو دن تک جاری رہے گا جس کے دوران  وقتاً فوقتاً کراچی کے مختلف حصوں میں بارشیں ہوتی رہیں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں ایمرجنسی نافذ کردی


وزیراعلیٰ سندھ  سید مراد علی شاہ نے کراچی میں بارش کے پیش نظرایمرجنسی نافذ کردی اور متعلقہ اداروں کو صفائی و نکاسی آب کیلئے ہنگامی بینادوں پرکام کی ہدایت جاری کرتےہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے علاقوں میں پانی کونکالنے کا کام شروع کردیں، یہ ہدایت سندھ  کے تمام ضلعوں کے چیئرمین کو بھی جاری کی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ڈپٹی میئر ارشد وہرہ کو ٹیلی فون کر کے اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے شہریوں کو ہر قسم کی سہولیات مہیا کرنے اور کسی بھی پریشانی اور ناگہانی سے محفوظ رکھنے کے لیے راست اقدامات کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی کو فون کر کے بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نکاسی آب کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رین ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت کی۔

جس پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے انہیں بتایا کہ واٹربورڈ کی تمام سیورکینگ ،جیٹنگ ، راڈنگ مشینیں اہم شاہراہوں پر بھیج دی گئی ہیں جب کہ نکاسی آب کیلئے بلدیاتی اداروں کی مد د کیلئے واٹربورڈ کا عملہ پہلے ہی نشیبی علاقوں میں تعینات ہے اور اس وقت تمام سپرنٹنڈنگ اورایگزیکٹیو انجینئرز برساتی پانی کی نکاسی تک علاقوں میں موجود ہیں۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع ملیر کے چیئرمین سلمان مراد کو فون کر کے علاقے میں نکاسی آب اور دیہاتوں میں امدادی کاموں کے حوالےسے رپورٹ لی اور بارش سے متاثرہ شہریوں کی مدد کرنے کے لیے ہدایت کی اور کاموں کی ازخود نگرانی کا حکم دیا۔

کے-الیکٹرک کی کراچی کے شہریوں کو ہدایت


ترجمان کے-الیکٹرک نے حالیہ نارشون میں کسی قسم کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے شہریوں کے لیے کو یدایت کی ہے کہ شہری بارش میں احتیاطی تدابیراختیارکریں اور بجلی کے تاروں کے قریب بالکل نہ جائیں۔

ترجمان کے-الیکٹرک نے کہا کہ برقی آلات کا استعمال گیلے ہاتھوں سے نہ کریں اور کسی بھی صورت میں بجلی کے کنڈے کا استعمال نہ کریں کہ یہ خطرناک عمل جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ترجمان کےالیکٹرک نے شہریوں سے استدعا کی ہے کہ کے-الیکٹرک سے تعاون کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں 118 پررابطہ کریں جب کہ وضاحت پیش کی ہے کراچی ایئرپورٹ پر بجلی بحال ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ اس وقت شہر بھر کے 400 فیڈرز ٹرپ ہیں جن بارش رکنے کے بعد کام کیا جائے گا اور جلد ہی بجلی بحال کردی جائے گی جب کہ جن علاقوں میں بارش رک چکی ہے وہاں بجلی بحالی کا کام جاری ہے۔

ڈپٹی میئر ارشد وہرہ ٹیم کے ہمراہ  شہر کے دورے پر


ڈپٹی میئرارشد وہرہ نے  بارش کے دوران شہر کے متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا اس دوران ان کے ہمراہ متعلقہ محکموں کے افسران اور ضلعی چیئرمین بھی موجود تھے جب کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بھاری مشینری بھی موجود تھی۔

ڈپٹی میئر نے کورنگی نالہ، منظورکالونی نالہ اوردیگرمقامات پرصفائی کےکاموں کا جائزہ لیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ نکاسی آب کےانتظامات کیلئے مشینری اور افرادی قوت فیلڈ پر موجود ہیں اور نکاسی آب کو ممکن بنا رہے ہیں۔

ارشد وہرا کا افسران سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ سٹی وارڈنز ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے سڑکوں پرموجود رہیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ شہریوں کوسہولت فراہم کرنے کیلئےکوئی کسرنہیں چھوڑی جائے گی۔

بارش سے سب سے متاثرہ ضلع شرقی میں ہنگامی مراکز قائم 


دوسری جانب بارش سے متاثرہ ضلع شرقی میں رین ایمرجنسی کا نفاذ کردیا گیا ہے اورمتعلقہ محکموں کی چھٹیاں منسوخ کر کے گلشن اقبال اورجمشید زونز کے شکایتی مراکزکو متحرک کردیا گیا ہے۔

 ترجمان ضلع شرقی کے مطابق شہری اپنی شکایات گلشن اقبال زون میں 99230355 پردرج کراسکتے ہیں جب کہ جمشید زون کے مکین ٹیلی فون نمبر 99225111 پرشکایات درج کراسکتے ہیں۔

کہاں کتنی بارش ہوئی ؟ 


آج کراچی میں سب زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ، نارتھ کراچی میں 26 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈپر19ملی میٹر، گلشن حدید میں 17 ملی میٹر، ناظم آبادمیں 16 ملی میٹر،پہلوان گوٹھ میں 16 ملی میٹر اور ایئرپورٹ پر8 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی جب کہ دیگر علاقوں میں 2 سے 4 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہریوں کو تنبہیہ 


سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہریوں کوالرٹ جاری کرتے ہوئے اولڈ سٹی ایریا میں مخدوش عمارتوں سے دوررہنے کی ہدایت کی ہے جن کہ مخدوش عمارتوں میں رہائش پذیرافراد کو فی الفورنقل مکانی کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان ایس بی سی اے نے بتایا ہے کہ کراچی میں قدیم لیکن مخدوش عمارتوں کو پہلے نوٹس جاری کردیئے گئے تھے تاہم ابھی تک کچھ خاندان ان عمارتوں میں مقیم ہیں جو تیز بارشوں کے باعث گر سکتی ہیں اس لیے شہری ایسی عمارتوں کے قریب کھڑے نہ ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں