The news is by your side.

Advertisement

نماز استسقاء کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب میں بارش، ویڈیو اور تصاویر دیکھیں

ریاض: سعودی عرب میں چند روز قبل خشک سالی ختم کرنے اور بارش کے لیے نماز استسقاء ادا کی گئی، جس کے بعد اب مختلف شہروں میں تیز بارش ہوئی ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا اور خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر چار نومبر کو حرمین شریفین سمیت مملکت کی 26 ہزار مساجد میں نماز استسقاء ادا کی گئی تھی۔

شیخ بندر البلیلہ نے مسجد الحرام کے صحن اور شیخ عبد المحسن القاسم مسجد نبوی ﷺ میں نماز استسقاء کی جماعت کرائی، مسجد الحرام میں نماز استسقاء کی جماعت صبح 6 بج کر چالیس منٹ جبکہ مسجد نبوی ﷺ میں 6 بج کر 45 منٹ پر ادا کی گئی۔

علاوہ ازیں دیگر 26 ہزار مساجد کی جانب سے کھلے میدانوں، مقامات پر شرعی حکم کے مطابق نماز استسقاء ادا کی گئی تھی، جس میں تمام نمازیوں نے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور باران رحمت کے لیے خصوصی دعا کی تھی۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض سمیت سعودی عرب کےمختلف شہروں میں تیزبارش ہوئی، جس پر شہریوں نے ایک بار پھر رب کے حضور سجدہ شکر کیا۔

نماز استسقاء کے احکام اور مسائل

انسان کی ایک بڑی ضرورت پانی ہے، اگر لوگ قحط سے دوچار ہوجائیں تو اور بارش نہ ہورہی ہو تو نبی کریم ﷺ نے اس موقع کے لئے مخصوص نماز ’’استسقاء‘‘ ادا کرنے کا حکم دیا اور خود بھی نماز باجماعت ادا کی۔

جب نہریں خشک ہوجائیں، انسان و حیوان کے پینے کی ضرورت نیز کاشت کی ضرورت کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی ہو مگر ناکافی ہو تو ایسی صورت میں استسقاء مسنون ہے۔ جس کا حکم اللہ کے نبی ﷺ نے اصحاب کو دیا اور اپنی اقتدا میں نماز پڑھوائی۔

نماز استسقاء کے اصل معنی پانی طلب کرنے کے ہیں، اس لئے پانی کے واسطے کی جانے والی دعاء اور نماز دونوں کو استسقاء کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ سے جمعہ کے دن خطبہ میں بارش کی دعا پر اکتفاء کرنا بھی ثابت ہے اور دو رکعت نمازِ استسقاء پڑھنا بھی، اسی لئے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک دونوں باتوں کی گنجائش ہے، یہ بھی کہ دعا پر اکتفاء کیا جائے اور یہ بھی کہ باضابطہ نماز ادا کی جائے۔

طریقہ نماز

 امام دو رکعت نماز پڑھائےگا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صحاؓبہ کو دو رکعت نماز پڑھائی ہے۔

نماز کے بعد امام خطبہ دےگا، یہ خطبہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک مسنون ہے، جیسا کہ نماز عید کے بعد خطبہ دیا جاتا ہے، یہ خطبہ زمین ہی پر کھڑے ہوکر دیا جاتا ہے۔

خطبے کے بعد امام قبلہ رخ ہوکر دعاء کرے، دعاء زور سے بھی کی جاسکتی ہے اور آہستہ بھی، دوسرے لوگ امام کے پیچھے قبلہ رخ بیٹھیں گے اور دعاء کریں گے، اگر امام بلند آواز سے دعاء کررہا ہو تو لوگ اس پر آمین کہتے ہیں جائیں گے۔

عام دعاؤں میں ہاتھ سینے تک اٹھایا جائےگا لیکن نماز استسقاء میں ہاتھ سر تک اٹھانا مسنون ہے، حدیث نبوی ﷺ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہاتھوں کو اتنا بلند فرمایا کہ بغلِ مبارک کی سفیدی نظر آتی تھی، البتہ ہاتھ کو سر کی مقدار سے اونچا نہ کیا، استسقاء کی نماز میں ہاتھ اس طرح اٹھایا جائےگا کہ پشت اوپر کی طرف ہو اور ہتھیلی زمین کی طرف کہ حضرت انس ﷺ نے حضور ﷺ کا یہی عمل نقل کیا ہے، بعض دوسری احادیث میں بھی یہ بات منقول ہے۔

دعا میں خوب الحاح و زاری کی کیفیت ہونی چاہئے، رسول اللہ ﷺ سے دعاء کے مختلف الفاظ منقول ہیں، یہاں ایک مختصر دعاء نقل کی جاتی ہے، جسے امام ابوداؤدؒ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے:

اے اللہ! ہمیں بھرپور، خوشگوار، شادابی لانےوالی، نفع بخش، غیرنقصان دہ، جلدی نہ کہ تاخیر والی بارش عطا فرما۔

Comments

یہ بھی پڑھیں