جمعرات, جون 18, 2026
اشتہار

کراچی میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ تیز بارش، درخت اکھڑ گئے

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : شہر قائد میں مغربی ہواؤں کے سسٹم کے تحت مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے، جس سے موسم سرد ہوگیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 17 سے 25 مارچ تک شہر میں بارش کی پیشگوئی کی گئی تھی، صدر اور اطراف کے علاقوں میں شدید بارش جاری ہے۔

بارش شروع ہوتے ہی مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی فراہمی معطل کردی گئی۔ شہر کی مارکیٹوں میں بھی اندھیرا چھا گیا۔

نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، صدر کے اطراف بجلی بند، تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوٹلوں کی ٹیبل، کرسیاں اڑ گئیں۔

کراچی کے کئی علاقوں میں تیز ہوا کے باعث درخت اکھڑ گئے، ریسکیوحکام کے مطابق آئی آئی چندریگرروڈ پر درخت گرگیا، برنس روڈ کے قریب بھی بارش کے باعث درخت گرگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بتایا گیا ہے کہ بارش اور تیز ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے، اور کے الیکٹرک نے شہریوں کو حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی کے دیگر علاقوں حسن اسکوائر، گلشن اقبال کے اطراف، نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، نارتھ ناظم آباد، منگھوپیر، سائٹ ایریا، ناظم آباد اور لیاقت آباد میں بارش ہوئی۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیاقت آباد میں طوفانی ہواؤں سے عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، جبکہ گلستان جوہر، اسکیم 33 ،صفورہ چورنگی، موسمیات، یونیورسٹی روڈ، لائنز ایریا، گرومندر، جہانگیر روڈ، لسبیلہ، تین ہٹی میں موسلادھار بارش ہوئی۔

اس کے علاوہ جمشیدروڈ، جیل روڈ کے اطراف، عزیز آباد، فیڈرل بی ایریا، گلبرگ اور اطراف بھی طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

بارشوں کے پیشِ نظر ’رین ایمرجنسی‘ نافذ

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے صوبے بھر میں خاص طور پر کراچی میں مون سون کی بارشوں کے پیشِ نظر ’رین ایمرجنسی “ نافذ کردی

بارشوں کے پیشِ نظر ایس بی سی اے عملے کو ہائی الرٹ کرکے 4 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو 24 گھنٹے الرٹ رہیں گی۔

ایس بی سی اے کے مطابق مذکورہ ٹیمیں بارشوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے، عمارتوں کے گرنے یا ملبے تلے دبنے جیسی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کریں گی۔

ایس بی سی اے نے پہلے ہی سینکڑوں عمارتوں کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دے رکھا ہے۔ یہ ٹیمیں ان عمارتوں کی مسلسل مانیٹرنگ کریں گی تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

اس کے علاوہ سوک سینٹر میں قائم مرکزی رین ایمرجنسی سیل کو فعال کر دیا گیا ہے، جہاں عملہ چار شفٹوں میں کام کرے گا۔ ٹیموں کو ضروری مشینری، لیبر اور تکنیکی ماہرین فراہم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی کام فوری شروع ہو سکے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خطرناک عمارتوں میں مقیم مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران احتیاط برتیں اور ایمرجنسی کی صورت میں اتھارٹی کے فراہم کردہ ہیلپ لائن نمبرز پر فوری اطلاع دیں۔

ڈی جی ایس بی سی اے نے تمام ڈائریکٹرز کو اپنے اپنے اضلاع میں موجود رہنے اور فیلڈ ٹیموں کی خود نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں