کراچی : سابق سربراہ سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے میر رضا کیس کی تفتیش میں ہونے والی بڑی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کیس میں جتنی کوتاہی پولیس کی ہے، اتنی ہی ایم ایل او کی ہے۔
سابق سربراہ سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب اے آر وائی نیوز کے پروگرام "باخبرسویرا”میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر رضا کیس میں شروع ہی سے کرائم سین کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا گیا، پولیس کو جائے وقوعہ کو فوری طور پر کارڈن آف کرکے شواہد محفوظ کرنے چاہییں تھے۔
راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ میر رضا کیس میں کرائم سین سے ہی خرابیوں کا آغاز ہوا، کرائم سین کو کارڈن آف کرنا اور شواہد اکٹھے کرنا پولیس کا ایس او پی ہے، تاہم اس کیس میں شروع سے ہی مس ہینڈلنگ نظر آئی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کیس میں جتنی کوتاہی پولیس کی ہے، اتنی ہی میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) کی بھی ہے، ایم ایل او نے میر رضا کیس کو ایک عام کیس کی طرح لیا، جبکہ ایم ایل او کروانا پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
سابق سربراہ سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ پستول برآمد نہ ہونے کے باوجود فائر کیے گئے خول کا فرانزک کیا جاسکتا ہے جبکہ کپڑوں سے کسی دوسرے شخص کا پسینہ ملنا بھی اہم ثبوت ہوسکتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کہ پولیس کو میر رضا کیس میں شروع سے اپنا واضح موقف دینا چاہیے تھا. ہر چیز کا نتیجہ 24 گھنٹے میں حاصل نہیں ہوسکتا، تحقیقات میں وقت لگتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی تفتیشی ٹیم کیس کو باریک بینی سے دیکھے گی اور جہاں کوتاہیاں ہوئی ہیں انہیں دور کرے گی، اب اس کیس میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی کو بچایا جا رہا ہے۔
راجہ عمر خطاب نے مزید کہا کہ میر رضا کیس ہائی لائٹ ہونے کے بعد یہ سامنے آیا کہ معاملہ قتل کا ہے، اگر کیس کی باریک بینی سے تحقیقات کی جاتیں تو اسے حل کرنا مشکل نہیں تھا، جبکہ میر رضا کیس ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ہی حل ہوگا۔


