The news is by your side.

Advertisement

جرمن قوم نازیوں کی باقیات اور فسطائیت کی مظاہر ہیں، ترک صدر اردگان

استنبول : ترک صدر طیب اردوگان نے کہا ہے کہ ڈچ قوم نازیوں کی باقیات ہیں جو اب بھی فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

ترک صدر نے یہ بیان ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو کی پرواز کو اترنے کی اجازت نہ دینے پر اپنے ردعمل میں دیا جس میں ترک صدر نے ڈچ قوم کو ’نازیوں کی باقیات اور فسطائی‘ قرار دیا ہے۔

استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوگان نے ہالینڈ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ جتنی مرضی ہمارے وزیرِ خارجہ کی پرواز پر پابندی لگادیں لیکن یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ پھر وہاں سے بھی پروازیں ترکی میں کسی بھی قیمت پر نہیں اتر سکیں گی۔

جس پر ہالینڈ کے وزيراعظم مارک روٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاملے کو ایک مناسب طریقہ کار کے تحت بھی حل کیا جاسکتا تھا لیکن ترک صدر کی پابندیوں والی دھمکی کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے اور اس بیان نے معاملے کی سنگینی میں اضافے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے بیرون ملک بسنے والے ترک شہریوں کو اپریل میں ہونے والے ریفرنڈم میں حمایت حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جلسے اور ریلیوں کا اہتمام کرنے پر یورپی ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ابھر کر سامنے آئی ہے اور آسٹریا، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ بھی ترک صدر کے جلسے منسوخ کرچکے ہیں۔

دوسری جانب ترک صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا کہ نازیوں کے ساتھ موازنہ کرنے سے صرف تکلیف میں اضافہ ہوگا اور اس سے کچھ حاصل نہ ہوسکے گا لہذا ایسے بیانات نا قابل قبول اور افسوس ناک ہیں۔

واضح رہے ترک وزیر خارجہ کو صدر طیب اردوگان کو مزید اختیارات دینے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم سے متعلق ایک ریلی سے خطاب کرنا تھا جس پر شہر کے میئر کا کہنا تھا کہ اس ریلی پر سکیورٹی وجوہات کے سبب پابندی عائد کی گئی تھی۔

یاد رہے ترکی کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے دورے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت قسم کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں تاہم اس کے باوجود ہالینڈ نے ترک وزیر خارجہ کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی جس کے باعث ترک وزیرخارجہ کی ریلی منسوخ کردی گئی۔

ترک صدر کے سیاسی ناقدین نے کہا کہ ترکی میں 16 اپریل کو ریفرنڈم کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے لہذا طیب اردوگان یورپ میں بسنے والے ترک شہریوں کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں جو ووٹ دینے کے مجاز ہیں جس میں تقریباً 14 لاکھ ترک صرف جرمنی میں رہتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں