منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

راجپال یادو : ہدایت کار سے قیدی کیسے بنے ؟

اشتہار

حیرت انگیز

نئی دہلی : 9 کروڑ مالیت کے چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا گیا، عدالت نے قید میں کمی تو کی مگر کروڑوں روپے کی ادائیگی کا حکم برقرار رکھا۔

بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے معروف اداکار راجپال یادو کے خلاف 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس کیس میں نئی دہلی ہائی کورٹ نے سزا برقرار رکھتے ہوئے انہیں باقی ماندہ سزا پوری کرنے کے لیے دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، جبکہ قید کی مدت 6 ماہ سے کم کرکے 3 ماہ کر دی گئی ہے۔

تنازعہ کب اور کیسے ہوا؟

عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ تنازعہ 2010 میں اس وقت شروع ہوا جب راجپال یادو نے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی پہلی فلم "اتا پتا لاپتا” کی تیاری کے لیے ایم ایس مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے قرضہ حاصل کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی جس کے باعث اداکار قرضہ واپس نہ کرسکے، سود اور جرمانوں کے باعث واجب الادا رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ قرض کی ادائیگی کے لیے دیے گئے متعدد چیک بھی باؤنس ہوگئے۔

Rajpal Yadav Cheque Bounce Case

سال 2018 میں سزا سنائی گئی

اپریل 2018 میں مجسٹریٹ عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ 138 کے تحت چیک باؤنس کا مجرم قرار دیتے ہوئے 6ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔ بعد ازاں 20196میں سیشن عدالت نے بھی یہ فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالتی مہلت کے باوجود ادائیگی نہ ہوسکی

2019سے 2025 کے دوران راجپال یادو نے دہلی ہائی کورٹ سے متعدد بار ریلیف اور ضمانت حاصل کی تاکہ قرض کی رقم ادا کر سکیں، تاہم عدالت کے مطابق وہ بار بار یقین دہانیوں کے باوجود واجبات ادا کرنے میں ناکام رہے۔

2025میں جزوی ادائیگی

اکتوبر 2025 میں اداکار نے 75 لاکھ روپے کے دو ڈیمانڈ ڈرافٹس جمع کرائے لیکن اس کے باوجود تقریباً 9کروڑ روپے کی بڑی رقم بدستور واجب الادا رہی۔

2026 میں جیل روانگی

فروری 2026 میں دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو 4 فروری تک عدالت کے حکم پر خود کو قانون کے حوالے کرنے کی ہدایت کی، تاہم مقررہ وقت پر پیش نہ ہونے پر مزید مہلت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے 5 فروری 2026 کو تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کردیا۔

دہلی ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ

10 جولائی 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے سزا برقرار رکھتے ہوئے راجپال یادو کی قید چھ ماہ سے کم کرکے تین ماہ کر دی، تاہم انہیں ہر مقدمے میں 1 کروڑ 5 لاکھ روپے (پہلے سے ادا کیے گئے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کی کٹوتی کے بعد) ادا کرنے کا حکم دیا۔

اسی طرح ان کی اہلیہ کو ہر مقدمے میں 5 کروڑ 51 لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ راجپال یادو نے بارہا ادائیگی کے وعدے کیے مگر انہیں پورا نہیں کیا، اس لیے انہیں باقی سزا کاٹنے کے لیے دوبارہ جیل بھیجا جائے۔

عدالتی فیصلے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ راجپال یادو اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے یا فریقین کے درمیان نئے تصفیے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

راجپال یادو کو قید کی سزا سنا دی گئی

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں