The news is by your side.

Advertisement

متحدہ عرب امارات: افطار سے قبل کون سی اشیاء کھلّے عام فروخت ہوسکتی ہیں؟

راس الخیمہ: متحدہ عرب امارات کی مقامی حکومت نے افطار سے قبل کھانے پینے کی ہلکی پھلکی اشیاء کھلی فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق راس الخیمہ کی مقامی حکومت کے ترجمان ال تُنائیجی کا کہنا تھا کہ پیکٹوں میں فروخت ہونے والا کھانا جیسے بریانی، حلیم وغیرہ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور یہ مضر صحت بھی ہوجاتا ہے لہذا انہیں افطار سے دو گھنٹے قبل کھلے عام فروخت کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انسانی صحت کی وجہ سے ہم نے اس خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے اجازت دی کہ دکاندار اشیاء فروخت کرلیں ، اس کے علاوہ اگر دکاندار کو لگتا ہے کہ کوئی کھانا زیادہ دیر تک ڈبے میں بند رہنے کی وجہ سے خراب ہوجائے گا اُسے بھی وہ فروخت کرسکتا ہے۔

ال تنائیجی کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ رمضان المبارک کے دوران کسی بھی قسم کے کھانے کو کھلا فروخت کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے تحت ہوٹل مالکان یا دکانداروں کو سزا بھی ہوسکتی ہے، جو کاروباری حضرات ڈبوں میں کھانا فروخت کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی کے ڈبے میں کھانا فروخت نہیں کرسکتا اس کے لیے حکومت کی جانب سے ایک طریقہ کار بیان کیا گیا، جس کے تحت ایک میٹر دور سے بھی اندر کی چیز نظر نہیں آنی چاہیے تاکہ روزے داروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہ ہو۔

حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’افطار سے دو گھنٹے قبل، سموسے، پکوڑے یا دیگر تلنے والی اشیاء فروخت کرنے کی اجازت ہے ، دکانداروں پر لازم ہے کہ وہ بہترین معیار کا تیل استعمال کریں‘‘۔  انہوں نے بتایا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ اُن کے کاروبار کو بھی سیل کردیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں