The news is by your side.

Advertisement

ذیابیطس کے مریض اور ماہ رمضان کی برکتیں

رمضان کا بابرکت مہینہ اپنے تمام فیوض و برکات کے خزانے لُٹاتے ہوئے رواں دواں ہے،ایسے میں ہر شخص کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ رمضان کے فیوض و برکات سے مکمل طور پر مستفید ہو۔

ذیابیطس کے ماہر معالج اپنی روزانہ کے کلینیکل تجربے کے پیش نظر بتاتے ہیں کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی سب ذیادہ جس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ذیابیطس کے مریض روزے رکھ سکتے ہیں؟

اگر آپ بھی اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے تو یہ مضمبون آپ کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

FEATURE

ذیابیطس ایسا مرض ہے جس میں انسانی جسم میں شوگر کی مقدار زیادہ یا کم ہو جاتی ہے،یہ ایسا مرض ہے جسے ختم تو نہیں کیا جاسکتا البتہ کنٹرول ضرور کیا جا سکتا ہے،اور اسے لگام دینے کے لیے دواؤں کا سہارا لیا جاتا ہے،عمومی طور پر ان دواؤں کا ساتھ ساری عمر کے لیے ہوتا ہے۔

POST 8

ذیابیطس کے مریض اپنے معالج کے مشورے،شوگر لیول کی مسلسل نگرانی اور دواؤں کی مقدار میں معمولی ردّوبدل کے بعد روزہ رکھ سکتے ہیں تا ہم اس سے قبل کچھ ضروری معلومات کا جان لینا نہایت ضروری امر ہے۔

ذیابیطس کیوں ہوتی ہے؟

اپنے جسم کو متحرک اور توانا رکھنے کے لیے ہم خوراک لیتے ہیں،جس کا بڑا حصہ تین قسموں کی خوراک نشاستہ ، لحمیات اور چربی پر مشتمل ہوتا ہے،جس میں سے لحمیات کا تعلق شوگر سے ہے۔

لحمیات ہضم ہونے کے بعد شوگر کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ہمارے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں گھومتی رہتی ہے،جیسے ہی خون میں اس کی مقدار ایک خاص حد سے تجاوز کرتی ہے قدرتی طور پر لبلبہ سے ایک کیمیائی خامرہ انسولین کا اخراج ہوتا ہے،انسولین شوگر کو اُٹھا کر اس خلیہ تک لے کر جاتی ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے یوں شوگر ہمارے جسم کا حصہ کا بن جاتی ہے۔

POST 3

تا ہم اگر لبلبہ انسولین کم مقدار میں یا بالکل ہی پیدا نہ کرپا رہاہوں تو شوگر خون میں ہی موجود رہتی ہے اورجسم کا حصہ نہیں بن پاتی،اس لیے ’’بلڈ ٹیسٹ‘‘ کراونے پرخون میں شوگر کی موجودگی آجاتی ہے ایسے شخص کو زیابیطس تشخیص کر کے انسولین یا ٹیبلیٹ تجویز کی جا تی ہیں۔

ذیابیطس کی اقسام

دواؤں کے اعتبار سے ذیابیطس کے مریض دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو اپنی شوگر انسولین کے ذریعے قابو میں رکھتے ہیں،انہیں انسولین پر منحصر کرنے والے مریض کہا جاتا ہے جب کہ دوسری قسم ایسے مریضوں کی ہے جو گولیوں کے ذریعے شوگر کو لگام دیے رکھتے ہیں انہیں انسولین پہ انحصار نہ کرنے والے مریض کہا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے نقصانات

ذیابیطس کا سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ شوگر جسم کا حصہ نہیں بن پاتی اس طرح جسم مقررہ توانائی حاصل نہیں کرپاتا اور نحیف ہوتا جاتا ہے۔

زیابیطس کا دوسرا بڑا نقصان انسانی جسم کے اہم اعضاء جیسے دل، گردہ، آنکھیں اور دانت کو نقصان پہنچانا ہے، یہ وہ مریض ہوتے ہیں جن میں زیابیطس کا مرض کافی پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔

ذیابیطس کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں؟

ایسے مریض جو انسولین پر نہ ہوں اور ذیابیطس نے ابھی ان کے دیگر اہم جسم اعضاء کو نقصان نہ پہنچایا ہو، معمولی احتیاط اور دواؤں کی مقدار میں معمولی رددوبدل کے بعد روزہ رکھ سکتے ہیں۔

 

POST 5

تاہم ایسے مریض جو انسولین پر ہوں اورذیابیطس نے اُن کے کسی اہم جسمانی اعضاء کو بھی نقصان پہنچایا ہو تو ایسے مریض معالج کی خصوصی نگرانی، شوگر لیول کی سختی سے جانچ پڑتال اور انسولین کے یونٹس میں رددوبدل کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔

ایک عام غلطی

زیابیطس کے مریض رمضان کے مہینے میں اپنی دواؤں کے وقت اور مقدار میں ایک سنگین غلطی کرتے ہیں جس کے باعث روزے کے دوران شوگر لیول خطرناک حد تک کم ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔

عمومی طور پر شوگر کم کرنے والی دواؤں کی زیادہ مقدار ناشتے سے قبل لی جاتی ہے کیوں کہ اس کے بعد صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا شام کی چائے اور رات کا کھان کھانا ہوتا ہے جب کہ رات کے کھانے سے قبل دوا کی کم مقدار لی جاتی ہے کیوں کہ اس کے بعد صرف رات کا کھانا ہوتا ہے اور سونے کے دوران شوگر ویسے ہی کم ہوتی ہے۔

رمضان میں مریض یہ غلطی کرتے ہیں کہ ناشتے سے قبل والی دوا کی مقدار سحری میں اور رات والی دوا کی مقدار افطاری میں لے لیتے ہیں اور یوں لو شوگر لیول کا شکار ہو جاتے ہیں۔

روزہ کے دوران دوا کی ترتیب

انسولین یا گولیوں کی وہ مقدار جو عام دنوں میں ناشتے سے قبل لی جاتی ہو وہ رمضان میں افطار کے وقت لی جائے اور جو مقدار عام دنوں میں رات کے کھانے سے قبل لی جاتی ہے وہ سحری کے اوقات میں لے لی جائے تو شوگر لیول کم ہونے کے خدشات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

POST 2

تاہم انسولین کے یونٹس اور گولیوں کی مقدار میں رددوبدل صرف اپنے معالج سے کروائیں۔

شوگر لیول کی جانچ پڑتال

علماء کرام کے مطابق روزہ کے دوران شوگر چیک کروانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس آسانی کے بعد روزہ کے دوران اپنا شوگر لیول چیک کرتے رہیے اگر شوگر لیول خطرناک حد تک کم ہو رہا ہو تو علماء کرام روزہ توڑنے کی اجازت دیتے ہیں، یہ رعائیت روزہ دار مریضوں کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے دی گئی ہے۔

ایک ضروری بات

اگر ذیابیطس کے باعث کوئی اہم اعضاء جیسے دل اور گردہ وغیرہ پر اثر ہوا ہے تو یہ لازمی ہے کہ دل اور گردہ کے ماہر معالج سے مشورہ کرنے کے بعد ہی روزہ رکھا جائے، دل و گردہ سے متعلق دواؤں میں رددوبدل وہی بہترکرسکتے ہیں۔

احتیاطیں

روزے کے دوران ایسے کام نہ کریں جس سے پسینے آتے ہوں اور تھکاوٹ کا احساس ہو،کام کے دوران آرام کا وقفہ ضرور لیتے رہیں،سحری میں افطاری متوازن کریں،مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں،دودھ، دلیہ، دہی اور نشاستہ سے بھرپور سبزیاں بہ طور خوارک لیں،افطار میں فروٹ چارٹ کے بجائے کوئی سا بھی ایک پھل کھائیں اور ساتھ میں ابلے ہوئے چنے ایک پیالی ضرور لیں۔

POST 7

 

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے رمضان کی برکتیں

ذیابیطس کے معالج کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر رمضان میں مریضوں کی شوگر عام مہینوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کنٹرول میں رہتی ہے اور اس رمضان کے مہینے میں شوگر کے مریض زیادہ ہشاش بشاش اور متحرک نظر آتے ہیں۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے ذیابیطس کے ماہرین کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں چوں کہ ناشتے اور دیگر کھانوں کا وقت مقرر نہیں ہوتا اس لیے انسولین کے ٹیکے یا گولیاں وقت پر لینا مشکل ہو جاتا ہے یو ں دوا اپنا پیک پلازمہ لیول حاصل نہیں کر پاتی اور شوگر کنٹرول کرنے میں دقت ہی رہتی ہے۔

جب کہ رمضان میں یہ سہولت ہوتی ہوتی ہے کہ سحر و افطار کے مقررہ وقت میں انسولین یا گولیاں لے لی جاتی ہیں جس سے دوا کا پیک پلازمہ لیول برقرار رہتا ہے اور جسم میں جوبیس گھنٹے شوگر موثر طور سے قابو میں رہتی ہے۔

معمولی احتیاط کے ساتھ رمضان سے لطف اندوز ہوں

اِن معمولی احتیاطوں اور معلومات کومدںظر رکھتے ہوئے ذیابیطس کے مریض بھی رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہو سکتے ہیں،اور خداوند کریم کی بارگاہ سے نعمت کے خزینوں سے اپنی جھولی بھر سکتے ہیں۔

اس مضمون کی تیاری میں امریکن ڈایابیٹک ایسوسی ایشن کے الحاقی ادارے پاکستان ذیابیطس ایسوسی ایشن کے رہنما اصول سے مدد لی گئی ہے جب کہ بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈیابیٹک اینڈ اینڈو کرائینولوجی اور میمن ڈائیبیٹک سینٹر کے معالجین سے حاصل معلومات بھی اس مضمون کا حصہ بنائی گئی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں