The news is by your side.

Advertisement

بھارتی پولیس کی مسلمان دشمنی، مسلمان ملزم نہ ملنے پر حاملہ اہلیہ کو گرفتار کرلیا

نئی دہلی: بھارت میں پولیس نے اخلاقیات کی حدیں پار کردیں، ایک مقدمے میں نامزد مسلمان ملزم جب ہاتھ نہیں آیا تو اس کی حاملہ بیوی کو گرفتار کر کے جیل لے جایا گیا جہاں وہ اگلے دو روز تک بند رہی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست اتر پردیش کے شہر رامپور میں پیش آیا، نامزد ملزم کے بھائی دین محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بھائی کو کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

دین محمد کے مطابق گزشتہ روز پولیس جب اس کے بھائی کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تو وہ موجود نہیں تھا جس کے بعد رامپور پولیس اس کی 7 ماہ کی حاملہ بھابھی آسیہ کو حراست میں لے کر تھانے پہنچ گئی۔

معاملے کی خبریں میڈیا پر آئیں تو مقامی سیاسی رہنماؤں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا، عام آدمی پارٹی کے صوبائی نائب صدر فیصل خاں لالہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہے، انہوں نے کہا کہ رامپور پولیس بتائے کہ وہ کس قانون کی بنیاد پر ملزم نہ ملنے پر اس کی اہلیہ کو گرفتار کر سکتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ 7 ماہ کی حاملہ ہے اور پولیس اس کو گزشتہ شب سے اپنی حراست میں رکھے ہوئے ہے، وہ اس معاملے کو لے کر اعلیٰ افسران کے پاس جا رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رامپور میں پولیس کی جانب سے مسلمان خاتون کی اس قسم کی گرفتاری کا ایک ہفتے کے اندر یہ دوسرا واقعہ ہے۔

کچھ دن قبل رامپور کے علاقے ڈونگر پور میں بھی پولیس جب ملزم کو پکڑنے میں ناکام رہی تو پولیس ٹیم ملزم کی اہلیہ اور اس کی 3 ماہ کی معصوم بیٹی کو اپنے ساتھ تھانے لے آئی اور دونوں کو رات بھر تھانے میں رکھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں