کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے 27 اکتوبر 2025 سے جدید سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ’’فیس لیس ای چالان‘‘ کے نظام کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا، اس نظام کے تحت تیز رفتاری، ٹریفک سگنل توڑنے، غلط سمت میں گاڑی چلانے، ممنوعہ لین استعمال کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں پر چالان خودکار طریقے سے تیار ہو کر براہِ راست گاڑی یا موٹر سائیکل مالکان کے گھروں پر بھیجے جا رہے ہیں۔
بظاہر یہ نظام جدید، شفاف اور کرپشن فری دکھائی دیتا ہے، اور اسی بنیاد پر اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا۔ اس سسٹم کی سب سے بڑی خوبی یہ بتائی گئی کہ اس کے ذریعے ٹریفک پولیس اور شہریوں کے درمیان براہِ راست یا مینوئل رابطہ ختم کر دیا گیا ہے، تاکہ رشوت، سفارش اور دباؤ جیسے عوامل کا خاتمہ ہو سکے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں قانون کا احترام سسٹم سے نہیں بلکہ عمل درآمد سے پیدا ہوتا ہے۔ یہاں قوانین صرف اسی وقت مانے جاتے ہیں جب انھیں نافذ کرنے والا موجود ہو۔ جیسے ہی ای چالان کا نظام فعال ہوا، کراچی کی سڑکوں سے ٹریفک پولیس اچانک غائب ہو گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے سارا شہر صرف کیمروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہو۔


ای چالان سسٹم کا بڑا نقصان کیا ہوا؟
سسٹم بنانے والوں نے شاید یہ فرض کر لیا کہ کیمرے لگتے ہی شہری خود بخود مہذب ہو جائیں گے، حالاں کہ ایسے نظام وہاں کامیاب ہوتے ہیں جہاں شہری پہلے سے قانون پسند ہوں، جہاں جان بوجھ کر قانون توڑنا معیوب سمجھا جاتا ہو، جہاں خلاف ورزی پر جب چالان ملے تو غربت اور مفلسی کا رونا نہ رویا جاتا ہو، اور جہاں بااثر لوگ اپنی نمبر پلیٹس چھپانے کے لیے گول نمبر پلیٹس استعمال نہ کرتے ہوں۔
بدقسمتی سے کراچی میں اس کے برعکس ہوا۔ اس سسٹم کا سب سے بڑا نقصان اس وقت سامنے آیا جب شہریوں کو یہ احساس ہوا کہ اب وہ مادر پدر آزاد ہیں، اب انھیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ نتیجتاً ہر سگنل، ہر چوک اور ہر شاہراہ پر ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑنا شروع ہو گئیں۔ کیمروں کے نیچے سے رانگ وے جانا معمول بن گیا، موٹر سائیکل سوار فٹ پاتھ پر نظر آنے لگے، یو ٹرنز کو مذاق سمجھا جانے لگا، اور سگنل توڑنا ایک عام سی بات بن گئی۔

کراچی کی تاریخ میں شاید کبھی بھی اس پیمانے پر غلط سمت گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں نہیں چلائی گئیں جیسا کہ آج کل دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر شام کے اوقات میں صورت حال بدترین ہو جاتی ہے۔ نفری نہ ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ شام 4 بجے سے رات 9 بجے تک کراچی کی تقریباً ہر اہم سڑک مکمل طور پر جام ہو جاتی ہے۔ دفاتر سے واپسی، اسکولوں کی چھٹی، اور بازاروں کا رش مل کر ٹریفک کو مفلوج کر دیتا ہے۔
یقیناً اس بدترین صورت حال کی ایک بڑی وجہ شہر بھر میں جاری نامکمل ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے بھی ہیں، جنھوں نے سڑکوں کو تنگ اور راستوں کو محدود کر دیا ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ کیمرے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر شہری آہستہ آہستہ وہی کچھ کرنے لگے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے، اس بار فرق صرف اتنا ہے کہ اب سامنے وردی نہیں، صرف کیمرہ ہے، اور کیمرے کو دھوکا دینے کا فن کراچی کے لوگ بخوبی جانتے ہیں، جس میں ان پڑھ ہی نہیں پڑھے لکھے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے، کیوں کہ رمضان المبارک قریب ہے۔ رمضان میں خریداری کے اوقات بڑھ جاتے ہیں، افطار سے پہلے سڑکوں پر رش کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اور معمولی سی بد انتظامی پورے شہر کو مفلوج کر دیتی ہے۔ اگر ابھی سے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو رمضان کے ابتدائی چند دن تو شاید کسی نہ کسی طرح گزر جائیں، مگر 10 رمضان کے بعد ٹریفک کا دباؤ ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔
رمضان کے پیش نظر کیا کرنا چاہیے؟
اگر واقعی کراچی میں ٹریفک کنٹرول کرنا مقصود ہے تو صرف کیمروں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ ہر اہم سڑک، ہر چوک اور ہر سگنل پر ٹریفک پولیس کی موجودگی ناگزیر ہے۔ ٹیکنالوجی کو سڑک پر موجود نفری کے ہاتھ میں دینا ہوگا، موبائل فونز اور جدید ڈیوائسز کے ذریعے فوری طور پر نمبر پلیٹ اور چہرے کی تصاویر لے کر بلا تفریق ای چالان جاری کرنا ہوگا۔
قانون کا اطلاق کمزور اور طاقتور دونوں پر یکساں ہونا چاہیے، ای چالان ایک اچھا اور ضروری قدم ہے، مگر اسے مؤثر بنانے کے لیے انسانی موجودگی، سخت نگرانی اور بلا امتیاز عمل درآمد ناگزیر ہے۔ رمضان پولیس اور ٹریفک انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ امتحان سنجیدگی سے دیا جاتا ہے یا حسبِ روایت شہریوں کو ایک بار پھر خود ہی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


