اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت میں ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کا آغاز آج سے ہونے جارہا ہے تاہم مذاکرات کا سب سے اہم اور مرکزی مرحلہ کل کو ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کا دارالحکومت اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کو بین الاقوامی سطح پر "اسلام آباد معاہدہ” کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
,مذاکرات دفتر خارجہ یا کسی نجی ہوٹل میں ہونے کا امکان ہے ، آج وفود کی سطح پر ابتدائی بات چیت ہوگی، جبکہ مذاکرات کا سب سے اہم اور مرکزی مرحلہ ہفتہ (کل) کو ہوگا۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں چین، روس اور خلیجی ممالک کی بطور مبصر شرکت بھی متوقع ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے مقامات (دفتر خارجہ یا نجی ہوٹل) کے اطراف غیر معمولی سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے، اس تاریخی لمحے کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے سینکڑوں بین الاقوامی صحافی اور میڈیا ہاؤسز اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا محور ہے، کیونکہ وہ دو دیرینہ حریفوں کے درمیان قیامِ امن کے لیے میزبانی کا اہم فریضہ انجام دے رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر "حقیقی معاہدہ” نہ ہوا تو ایران پر پہلے سے بدترین بمباری کی جائے گی۔
انہوں نے امریکی افواج کو جنگی جہازوں اور ہتھیاروں سمیت ایران کے گرد پوزیشن برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


