وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ 28ویں ترمیم پر اتفاق رائے ہوگیا تو بجٹ سے پہلے بھی آسکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 28ویں ترمیم پر اتفاق نہ ہوا تو بجٹ کے دوران بھی بات ہوتی رہے گی، مئی تک بھی ترمیم ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے جس چیز پر اتفاق ہوجائے وہ پارلیمنٹ میں آجائے، تعلیم، صحت، این ایف سی فنڈز کی تقسیم ودیگر ایشوز پر بات ہونی ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا سیاسی مؤقف ہے اسے ناراضی نہیں کہا جاسکتا، ان کے موقف کا احترام ہے انہیں سیمینار کا بھی حق ہے، ہمارا بھی موقف ہے 27ویں ترمیم کو یہ کہہ کر مسترد کیا گیا کہ عدالتوں کو غلام بنالیا گیا ہے۔
یہ پڑھیں: ملک کی بدقسمتی ہے جو بانی پی ٹی آئی کو لایا گیا تھا، رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 27ویں ترمیم کی کوئی ایک شق بتائیں جس سے عدالتیں غلام بن گئی ہیں، ملک میں جوڈیشل کمیشن پچھلے 185 سال سے کام کررہا ہے صرف یہ فرق آیا ہے کہ چار نئے لوگ پارلیمنٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر عہدے سے ہٹنے کے بعد 11 سال جیل میں رہے، گناہ بھی ثابت نہ ہو تو کون جوابدہ ہے، بعض چیزیں معروضی حالات میں کی جاتی ہیں حالات بہتر ہوں تو واپس بھی ہوسکتی ہیں۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ مولانا سے رابطے برقرار رہیں گے ان سے بات کرکے اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے، پیپلزپارٹی بھی ہماری اہم اتحادی جماعت ہے، ان کے ساتھ جس طرح معاملات طے ہوئے تھے اسی طرح چلیں گے۔


