The news is by your side.

Advertisement

رانا ثنا اللہ کے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کرنے والے جج کا تبادلہ

لاہور: سابق وزیرقانون پنجاب اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کرنے والے جج مسعود ارشدکا تبادلہ کردیا گیا، فاضل جج کی کیس کی سماعت سے معذرت ، سماعت نہ کرنے پررانا ثنااللہ کے وکلا کا فاضل جج سے تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما راناثناء اللہ کوسخت سکیورٹی میں انسداد منشیات کی عدالت میں پیش کیا گیا،ملزم کے وکلاء نے کہا کہ حکومتی وزیر نے منشیات برآمدگی کی ویڈیو کی موجودگی کا دعوی کیا، مگر موٹروے ٹول پلازہ کی ویڈیو دے دی گئی، الزامات بے بنیاد ہیں ۔

وکلاء نے کہا کہ ایف آئی آر اور چالان میں واضح تضادات ہیں جن کی وجہ سے اے ای ایف کا کیس انتہائی کمزور ہے ۔ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا لہذا عدالت ضمانت منظور کرے۔

عدالت نے اے این ایف کے وکیل کی استدعا پر سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کی، سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو فاضل جج مسعود ارشد نے کہا کہ میرا ٹرانسفر کر دیا گیا ہے، واٹس ایپ کے ذریعے مجھے تبادلے کا نوٹیفکیشن موصول ہوچکا ہے، اب کیس کی سماعت نہیں کرسکتا۔

رانا ثنااللہ کے وکلا نے کیس کی سماعت نہ کرنے پر فاضل جج سے بحث شروع کردی،رانا ثناء اللہ کےوکلاء نے کہا کہ واٹس ایپ پر آنے والے نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں یہ انصاف کا قتل ہے۔

فاضل جج نے ریمارکس دئیےمیرے لئے تمام مقدمات ایک جیسے ہیں، یہ کہتے ہوئے عدالت نے رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 07ستمبر تک توسیع کردی۔

پیشی کے بعدمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے خلاف اپنی مرضی کے فیصلے چاہتی ہے، نواز شریف کے ساتھ رہوں گا، جھوٹے کیس بنا کر آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ۔

رانا ثناءاللہ کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ،ضلع کچہری کے اطراف غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کر دیاگیا تھا جس سے راہگیروں، وکلاء اور سائلوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں