The news is by your side.

عمران خان پر حملہ سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس ہے، رانا ثنااللہ

اسلام آباد : وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا عمران خان پر حملہ سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ راناثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے، بدقسمتی سے نفرت اور تقسیم کے عمل کو معاشرے میں گہرا کر دیا گیا، سوچنا ہوگا کہ عدم برداشت کے رویے کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔

راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ انہیں کس طرح سمجھا جائے کہ یہ تباہی کا راستہ ہے ، لانگ مارچ کے دوران چار اموات ہوئی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پرایک صحافی کی فیملی کومعاوضہ پہنچادیاگیاہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ ایک نوجوان ٹرک سے گرکرجاں بحق ہواتھا، انکی فیملی کا بیان بھی آیا تھا کہ انکاگھرکرائے کا ہے،تین شہدا کےلئے وزیراعظم نے معاوضے کا اعلان کیاہے اور کل جو معظم نامی شہری جاں بحق ہوئے اس کے 3 بچے ہیں ،بڑا درد ناک منظر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کل کےواقعےکےبعدعمران خان سمیت دوسرے درجےکی قیادت کا رویہ قابل مذمت ہے، کل اسدعمر نے کہا عمران خان کے کہنے پر تین لوگوں کے نام لیکر بغیرتحقیق اورثبوت الزام لگائے۔

راناثنااللہ نے کہا کہ ان کے بعض لیڈرز لوگوں کو پکارتے رہے کہ باہر نکلو اور بدلا لو، یہ رویے انتہائی قابل افسوس ہیں یہ جمہوری راستے سے ہٹانے کی کوشش ہے، یہ رویے جمہوریت کےلئے معاون نہیں ہوسکتے۔

حملہ آور کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ کل پی ٹی آئی کارکن ابتسام کی مدد سے ملزم موقع سے گرفتار ہوا، ملزم کا بیان گجرات کے تھانے میں بیان ریکارڈ ہوا ہے ,اس مقدمے میں ایف آئی آر ابھی تک درج نہیں ہوئی ہے ، شاید اپنی مرضی سے ایف آئی آردرج کرانے کی کوشش ہورہی ہے۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ملزم کے بیان کی ایک قسط کل جاری ہوئی تھی جس میں اس نے وجوہات بتائیں، ملزم کے پہلے ویڈیو بیان کے بعد تھانے کےعملے کو معطل کیاگیاپھر دوسری ویڈیو جاری ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملزم جو الزام لگارہا ہے وہ انتہائی تشویش اورخوفناک ہے، ویڈیو پہلے ہم تک پہنچی میڈیا پر بھی چلی مگریقین کریں ہم نے اس کو روکا ، کل ملزم نے خود کہا مذہبی رویے کو بنیاد بنا کر یہ عمل کیا۔

راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعدانتہائی اہمیت کےحامل ہوجاتی ہے ، اس ویڈیو کا وائرل انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے ، اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایسے عناصر ان معاملات پر شے پکڑیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ریکارڈ کرنیوالے نے ویڈیو لیک کی یا کوئی اور نے اس سے لیکر لیک کی ، ایک بیان پر پورا تھانہ معطل ہوا اس کے بعد دوسرا بیان سامنے آگیا جو بہت نقصان دہ ہے، ملزم کےبیان کی دوسری ویڈیو کا وائرل ہونا تشویشناک بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی انتہاپسندی کےتناظر میں ایسے بیانات سےلوگ متاثر ہوتےہیں ,اس ملزم کی تفصیلات جب سامنے آئیں گی تو آپ حیران پریشان ہوں گے، یہ سیدھا سیدھا مذہبی انتہاپسندی کا کیس ہے۔

راناثنااللہ نے بتایا کہ ہم کس سے ثالثی کریں ہم کس سے بات کریں آگے سے جواب آپ کےسامنے ہیں، آگے سے ہمیں گالیاں ملتی ہیں، کہتے ہیں تمہارےساتھ بیٹھنےسے بہترموت کو ترجیح دیتا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں