The news is by your side.

Advertisement

مجھ پر ایک جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ قائم کیا گیا، رانا ثناء اللہ

لاہور : مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ مجھ پر ایک بے بنیاد مقدمہ قائم کیا گیا جو سراسر جھوٹ تھا، میری رہائی ہائی کورٹ کے حکم پر عمل میں آئی۔

یہ بات انہوں نے لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پارٹی کارکنان اور ساتھیوں کا شکر گزار ہوں، ان اینکرز کا بھی شکریہ جنہوں نے حق میں آواز بلند کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی2019 کو اپنے گھر سے روانہ ہوا، راوی ٹول پلازہ کراس کیا تو میرے گارڈ کو گاڑیوں سے زبردستی اتارا گیا، مجھے تھانے لے جایا گیا پوری رات وہاں رکھا گیا۔

پوری رات کسی تفتیشی افسر نے کوئی بات نہیں کی، میرے پوچھنے پر کہا گیا کہ میرے قبضے سے منشیات برآمد ہوئی ہے اور اس کی فوٹیج بھی موجود ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ تھا میرے خلاف ایک بے بنیاد مقدمہ قائم کرکے مجھے بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یکم جولائی کو میں سو فیصد اپنی جماعت کے ساتھ کھڑا تھا اور آج ایک ہزار فیصد اپنی جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑا ہوں، ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، ہم کہتے ہیں کہ عوام کے ووٹ کو عزت دو۔

مزید پڑھیں: منشیات برآمدگی کیس: رانا ثنا اللہ ضمانت پر رہا

واضح رہے کہ منشیات برآمدگی کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی ضمانت کا نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس کے بعد آج ان کو کیمپ جیل سے رہا کر دیا گیا، اس موقع پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد رانا ثنا اللہ کے استقبال کے لیے پہنچی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں