site
stats
پاکستان

معاملات طے پا گئے، دوا ساز کمپنیوں کی ہڑتال ختم، رانا ثناء اللہ

لاہور : صوبائی وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت نے دوا ساز کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی تاہم ایکٹ کامقصد صرف جعلی دوائیوں کی خرید و فروخت کو روکنا ہے۔

یہ بات انہوں نے دوا ساز کمپنیوں کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئی بتائی انہوں نے کہا کہ فارماسوٹیکل کمپنیوں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایکٹ کا مقصد جعلی دوائیوں کوروکنا ہے۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے تحفظات دور کردیے ہیں جس کے بعد دواساز کمپنیوں نے اپنی ہڑتال ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرگ ایکٹ میں ترامیم کے بعدفارماسوٹیکل کمپنیاں کے کچھ تحفظات تھے جس پر وہ احتجاج کر رہی تھیں تا ہم حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے بعد ہڑتال ختم کر کے میڈیکل اسٹورز کھول جائیں گے اور داوئیں ملنا دستیاب ہو جائیں گی۔

صوبائی وزیر پنجاب نے کہا کہ عوام کی صحت پر کسی قسم کاسمجھوتا نہیں کیاجائےگا اس لیے پنجاب حکومت کا مقصد جعلی دوائیوں کاخاتمہ ہے تاہم حکومت نے یقین دہانی کرائی ہےکہ قانون کاغلط استعمال نہیں کیاجائےگا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں دواساز کمپنیوں کےساتھ کچھ نقاط پر اتفاق ہوا ہے جیسے عالمی قوانین کےمطابق ایکٹ کولاگوکیاجائےگا اور اسٹیک ہولڈرزادویات کومعیارکےمطابق رکھیں گے جن کی فروخت طے شدہ ضابطہ اخلاق کے مطابق کی جائے گی تاکہ ملک سے جعلی ادویات کا خاتمہ کیا جاسکے۔

صوبائی وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ عالمی قوانین سے متصادم ترامیم رد کی جائیں گی جس کے بعد دوا ساز کمپنیوں سے معاملات طے ہوئے ہیں اور ہڑتال ختم کی جارہی ہے۔

اس موقع پر دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی اور ہماری سفارشات پر عمل در آمد ہونے تک ہڑتال مؤخر کرتے ہیں۔

دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ہر سطح پر تعاون کے لیےتیار ہیں اور جعلی ادویات کی تیاری کے خاتمے کے لیے حکومت کے ہر قدم پر معاونت کریں گے۔

واضح رہے پنجاب حکومت کی جانب سے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے بعد دوا ساز کمپنیوں اور دوا فروشوں کی تنظیموں کی جانب سے پورے پنجاب میں ہڑتال جاری تھی اور ڈرگ ایسوسی ایشن کے مال روڈ پر دھرنے کے دوران خود کش دھماکا بھی ہوا تھا جس میں ڈی آئی جی سمیت 13 افراد نے جام شہادت نوش کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top