The news is by your side.

Advertisement

ماڈل ٹاؤن واقعہ افسوسناک ہے، کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے، رانا ثناء اللہ

لاہور: صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن افسوسناک واقعہ ہے جس کی جے آئی ٹی نے آزادانہ تحقیقات کرائی گئی جس نے 9 پولیس اہلکاروں کو ملزم جب کہ 4 افراد کو اشتہاری قرار دیا گیا.

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انکوائری کمیشن بھی تشکیل دیا گیا لیکن ابھی تک رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے تاہم انکوائری کمیشن کی رپورٹ شائع کرنا یا نہ کرنا حکومت کی مرضی ہوتی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم نے انکوائری کمیشن کے سربراہ جسٹس باقر نجفی سے گذارش کی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ فراہم کردیں لیکن باقرنجفی نےکہا ابھی میری تعیناتی چیلنج ہوئی ہے اس لیے رپورٹ نہیں دے سکتا بعد ازاں اچانک نجفی صاحب نے رپورٹ سیکریٹری داخلہ کو فون کر کے دی.


 اب دھرناہوگا توآخری دھرناہوگا، علامہ طاہرالقادری


صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ رپورٹ جیسی بھی آئے لیکن اس کو من و عن تسلیم کر لینا حکومت کے لیے لازمی نہیں ہے اس طرح رپورٹ کو شائع کیا جائے یا نہیں کیا جائے یہ بھی حکومتی صوابدید ہے.

خیال رہے سربرا پاکستان عوامی تحریک علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان آمد کے موقع پر کارکنان سے خطاب * کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  17جون 2014کو 14 بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرائی گئیں تھیں میں پوچھتا ہوں ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والوں کا کیا قصور کیا تھا؟

انہوں نے مذید کہا کہ اللہ کے ہاں انصاف ہے وہاں دیر تو ہوسکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہے حکومت پنجاب نے ظلم کی انتہا کر دی تھی اور انسانی خون کو پانی کی طرح بہایا گیا، درندگی کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرائیں.


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں