اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر راناثنااللہ نے خبردار کیا افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو ہم کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام "الیونتھ آور” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ دہشت گردی کو سہولت کاری نہ دی جائے، ہمارا موقف ہےافغان سرزمین سے ہمارے ملک میں دہشت گردی نہ ہو اور افغانستان اپنی سرزمین ہمارےملک کےخلاف استعمال کرنے سے باز رہے۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ کہ گزشتہ تین روز میں وفاقی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور اگر 48 گھنٹے کے سیز فائر کے دوران بھی کسی دہشت گرد نے داخل ہونے کی کوشش کی تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان نے فیصلہ کر لیا ہے اور اب مزید دہشت گردی قبول نہیں کی جائے گی، افغانستان سے دہشت گردی ہوئی توپاکستان معاف نہیں کرے گااور اگر افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو ہم خود کریں گے۔
سیاسی مشیر نے گزشتہ 25 سال کے دوران پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور امداد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے چار لاکھ (40 لاکھ) افغان مہاجرین کو رکھا، انہیں روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے اور کئی بار مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔
اُنہوں نے بیان کیا کہ "25 سال سے افغانوں کے ناز نخرے اٹھائے، اسمگلنگ کے مواقع دیے” لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ افغانستان سے تعلقات ہو سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو، بصورتِ دیگر سکیورٹی اقدامات اور ردعمل جاری رہیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


