اتوار, اگست 9, 2026
اشتہار

نواز شریف وزارت عظمیٰ سنبھالنے کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں رکھتے ، رانا ثنااللہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وزیراعظم کےمشیر رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ نوازشریف وزارت عظمیٰ سنبھالنے کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں رکھتے”، وہ پارٹی اورحکومت دونوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا نوازشریف کا وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں ہے اور وہ صرف پارٹی کی قیادت اور دونوں حکومتوں کی رہنمائی کر رہے ہیں تاہم شہبازشریف وزارت عظمیٰ نوازشریف کےقدموں میں رکھنے کو تیار ہوں گے۔

رانا ثنااللہ نے شرجیل میمن کے بیان پر کہا کہ حکومت اور وزیراعظم سے متعلق ڈھائی سال والی بات کا کوئی وجود نہیں اور طے یہ ہوا تھا کہ جس پارٹی کے نمبرز زیادہ ہوں، اسی کا وزیراعظم ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ایک بڑے اتحادی کے طور پر حکومت کے ساتھ ہے اور پی ڈی ایم کے بڑے داعی آصف علی زرداری تھے، حکومت سازی کے وقت ن لیگ نے پی پی کو 50 فیصد کابینہ کی پیشکش کی تھی، جسے پیپلز پارٹی نے معذرت کرتے ہوئے مسترد کیا۔

سیاسی مشیر نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے ملک کی بہتری کے لیے کام کیا اور حکومت کا سیاسی جماعتوں سے اتحاد کامیابی سے جاری رہے گا، ہم لوگوں کے سامنے جوابدہ ہیں،گورننس بہترکرنے کی کوشش جاری ہے، گورننس کوئی آسان معاملہ نہیں، کل نوازشریف نے بھی کہا یہ مشکل کام ہے۔

انہوں نے ملک کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2017 اور 2018 کے دوران ملک ٹریک پر تھا لیکن  2018میں کیوں ایسا تجربہ کیاگیا جس نے اگلے4 سال ملک کو جہنم بنادیا، پی ڈی ایم کے دور اور موجودہ سال بھی مشکل رہا، تاہم حالات پہلے سے بہتر ہیں اور مزید محنت اور وقت کی ضرورت ہے۔

رانا ثنااللہ نے دہشت گردی اور افغان شہریوں کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ امریکا میں نیشنل گارڈز کو زخمی کرنے میں افغان شہری ملوث ہوئے  اور پاکستان میں بھی ہر دہشت گردی کے واقعے میں افغان شہریوں کی شمولیت سامنے آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں پر ایکشن لینے پر بعض حلقے واویلہ کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت افغان طالبان رجیم کو دہشت گردی کے لیے فنڈز فراہم کر رہا ہے اور یہ حقیقت اب دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں