The news is by your side.

Advertisement

دھرنے والے خبردار رہیں، آہنی ہاتھوں سے نمٹیں‌ گے، رانا ثناء اللہ

لاہور: وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت دی جائے گی، وفاقی دارلحکومت بند کرنے والے افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت خفیہ اجلاس ، اسلام آباد دھرنے سے قبل تحریک انصاف کے چیئرمین کی تقاریر پر غداری کا مقدمہ بنانے، قیادت اور کارکنان کو گرفتار کرنے لیے فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایات جاری کیں گئیں۔

سینئر صحافی اسد کھرل کے مطابق اسلام آباد دھرنے سے نمٹنے کے لیے وزیر قانون برائے پنجاب رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت ایک اہم اور خفیہ اجلاس طلب کی گیا، جس میں رانا مقبول، چیف سیکریٹری ، ہوم سیکریٹری ، آئی جی سمیت اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور تحریک انصاف کے دھرنے کو روکنے کے لیے مختلف امور پر غور کیا گیا۔

پڑھیں:  حکومت بے بس نہیں‌ بنے گی،ریاستی مشینری بند نہیں‌ ہونے دیں‌ گے، وزیراعظم

صحافی اسد کھرل نے انکشاف کی کہ دورانِ اجلاس رانا ثناء اللہ نے آئی بی اور انوسٹی گیشن یونٹ کو خصوصی ہدایت دی کہ تحریک انصاف کے کارکنان کی تین کیٹیگری میں فہرستیں مرتب کی جائیں، پہلی فہرست میں مرکزی قائدین اور قومی اسمبلی کے ممبران، دوسری کیٹیگری میں ڈویژن اور ٖضلعی عہدیداران اور ٹکٹ ہولڈرز جبکہ تیسری میں یوسی چیئرمین، فنانسر اور سرگرم کارکنان کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر قانون نے آئی بی اور پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ عمران خان کی تقاریر کے حوالے سے خصوصی رپورٹ مرتب کریں جس میں یہ نقطہ پیش کیا جائے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے اپنی تقاریر میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کی اور غداری کے مرتکب ہوئے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی دھرنا : حکومت کا شرکاء سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

رانا ثناء اللہ نے پولیس افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ عمران خان کے حوالے سے رپورٹ مرتب کر کے پچھلی تاریخوں میں ایف آئی آر کا اندراج کر کے اُسے سیل کردیں تاکہ دھرنے سے قبل چیئرمین تحریک انصاف کو گرفتار کرنے کے لیے جواز بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  پانامہ لیکس الزامات نہیں ثبوت ہیں،عمران خان

اسد کھرل نے کہا کہ ’’مٹینگ میں یہ بھی طے کیا گیا کہ دھرنے کے شرکاء کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور خیبرپختونخوا سے آنے والے شرکاء کے لیے راستہ اٹک پل سے ہی بند کردیا جائے گا جبکہ پنجاب کے دیگر علاقوں سے اسلام آباد جانے والے تمام راستوں اور نہروں پر بھی مٹی سے بھرے کنٹینر کھڑے کیے جائیں گے‘‘۔

رانا ثناء اللہ کا اعتراف

 اجلاس میں یہ آئی جی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے حوصلے بلند کریں اور انہیں اعتماد میں لیں، اس موقع پر رانا ثناء اللہ نے آئی جی پنجاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ پولیس اہلکاروں کو بتائیں کہ ہم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حصہ لینے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور انہیں ملک سے باہر بھیجا جبکہ اُن کی تنخواہیں تاحال جاری ہیں‘‘۔

اسے سے متعلق:  موجودہ حالات میں حکومت کا چلنا ممکن نظرنہیں آتا،خورشید شاہ

سنیئر صحافی نے مزید کہا کہ ’’روالپنڈی کے ہوٹل کی بکنگ کے حوالے سے یہ طے کیا گیا کہ دھرنے سے قبل تمام ہوٹلز میں چھاپے مارے جائیں گے اور جو لوگ مقامی شناختی کارڈ نہیں رکھیں گے انہیں گرفتار کرلیا جائے گا، اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ قائدین کو گرفتار کر کے اُن کے مقامی تھانوں میں نہیں رکھا جائے گا بلکہ دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جائے گا‘‘۔

قبل ازیں رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کو خبردار کیا تھاکہ وہ اسلام آباد بند کرنے کے حوالے سے باز رہیں ورنہ حکومت آئین و قانون توڑنے والوں سے نمٹنا جانتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں